اہلِ بیتؑ کی تاریخ

ایک ثابت شدہ تاریخی معجزہ:امام علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے

یہ دعویٰ کہ امام علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے کوئی افسانہ یا روایت نہیں بلکہ ایک مستند اور ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ یہ واقعہ اسلام میں ان کے منفرد اور بلند مقام کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ امام علی علیہ السلام کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کی روایت کو اسلامی تاریخ کے معتبر ترین مصادر اور محدثین نے بیان کیا ہے، جس سے اس کی صحت پر کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔

خانہ کعبہ میں ولادت کی مکمل روایت

امام علی علیہ السلام کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کی داستان ان کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد سے شروع ہوتی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں کہ اچانک ان پر دردِ زہ طاری ہو گیا۔ درد کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ چلنے پھرنے سے عاجز ہو گئیں۔ اس مشکل گھڑی میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا واسطہ دیا جنہوں نے یہ مقدس گھر تعمیر کیا تھا۔

دعا قبول ہوئی اور ایک عظیم معجزہ رونما ہوا۔ خانہ کعبہ کی دیوار معجزانہ طور پر پھٹ گئی۔ فاطمہ بنت اسد اس دراڑ میں سے اندر داخل ہو گئیں اور دیوار فوراً بحال ہو گئی۔ وہ تین دن تک خانہ کعبہ کے اندر رہیں۔ تیسرے دن 13 رجب المرجب کو وہ اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ خانہ کعبہ سے باہر آئیں۔ یہی وہ مستند اور تاریخی بیان ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

علمی مصادر سے ثبوت: امام علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے

امام علی علیہ السلام کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا واقعہ اسلامی تاریخ کے معتبر ترین علماء اور محدثین نے اپنی کتب میں درج کیا ہے۔

اہل سنت مصادر کے مطابق ثبوت

  • الحاکم النیشاپوری نے اپنی مشہور کتاب المستدرک علی الصحیحین میں اس روایت کو بیان کیا ہے اور تصریح کی ہے کہ یہ روایت صحیح الاسناد ہے۔

  • المسعودی نے اپنی تاریخ کی مشہور کتاب مروج الذہب میں لکھا ہے: "وہ (علی) خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ یہ ایک معروف اور مشہور حقیقت ہے۔”

  • امام السیوطی نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھا: "ان کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی۔ یہ ان کا ایک منفرد اعزاز ہے جس میں کوئی ان کا شریک نہیں۔”

اہل تشیع مصادر کے مطابق ثبوت

  • شیخ المفید نے اپنی معروف کتاب الارشاد میں اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

  • علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اس معجزہ پر مکمل باب قائم کیا ہے۔

ان دونوں مکاتب فکر کے علماء کا اس واقعہ پر متفق ہونا اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ امام علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

ولادت کے معجزے کی گہری معنویت

امام علی علیہ السلام کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کے واقعہ کی معنویت اور اہمیت بہت گہری ہے۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک الہی نشان تھا۔ اس معجزے کے متعدد پہلو ہیں:

  1. خالص روحانی طہارت کی علامت: خانہ کعبہ میں ولادت ان کی فطری پاکیزگی اور روحانی طہارت کی واضح دلیل ہے۔

  2. الہی انتخاب کی نشانی: یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے خاص مقام و مرتبہ عطا ہوا تھا۔

  3. آئندہ عظمت کی پیشین گوئی: یہ ولادت ان کے مستقبل کے کردار کی پیشین گوئی تھی۔

  4. منفرد اعزاز و اکرام: یہ وہ اعزاز ہے جو پوری دنیا میں صرف امام علی علیہ السلام کو حاصل ہوا۔

نتیجہ: ایک تاریخی حقیقت

خلاصہ کلام یہ کہ امام علی علیہ السلام کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا واقعہ ان کی شخصیت اور مقام کو سمجھنے کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ اس معجزے کے تاریخی ثبوت نہایت وافر اور مضبوط ہیں۔ یہ معجزہ ان کی بے مثال فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی جانشین ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔ امام علی علیہ السلام کا خانہ کعبہ میں پیدا ہونا ان کے الہی مقام کے لیے ایک ناقابل تردید دلیل ہے جو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو چکی ہے۔


ماخذ و مراجع:

  • المستدرک علی الصحیحین – الحاکم النیشاپوری

  • مروج الذہب – المسعودی

  • تاریخ الخلفاء – جلال الدین سیوطی

  • الارشاد – شیخ المفید

  • بحار الانوار – علامہ مجلسی

  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ – ابن حجر عسقلانی

  • کفایۃ الطالب – محمد بن یوسف کنجی الشافعی

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔

Leave a Comment