بسم اللہ الرحمن الرحیم
سن 7 ہجری میں واقع ہونے والی جنگ خیبر درحقیقت اسلام کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ رسول اللہﷺ اس وقت حدیبیہ سے واپس تشریف لا چکے تھے، جہاں آپﷺ نے مشرکین مکہ کے ساتھ ایک صلح نامہ پر دستخط فرمائے تھے۔ مدینہ منورہ میں مختصر قیام کے بعد، آپﷺ نے ایک بڑے لشکر کے ہمراہ فتح خیبر کے عظیم مشن پر روانگی فرمائی۔ خیبر کا علاقہ مدینہ منورہ سے تقریباً 80 میل کے فاصلے پر واقع ایک انتہائی سرسبز و شاداب خطہ تھا، جو اپنے کھجوروں کے باغات اور مضبوط قلعوں کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔
یہودیوں کے لیے خیبر نہ صرف ایک رہائشی علاقہ تھا بلکہ ایک مضبوط فوجی اڈا بھی تھا، جہاں وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچتے تھے۔ اس خطے میں متعدد قلعے تعمیر کیے گئے تھے، جن میں سے ہر ایک اپنی منفرد دفاعی خصوصیات کا حامل تھا۔ ان قلعوں کی مضبوطی اور فطری دفاعی حصار نے خیبر کو ایک ناقابل تسخیر علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ یہودیوں نے انہی قلعوں میں پناہ لی تھی، جس کے بعد مسلمانوں نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ کیے رکھا۔ یہ محاصرہ نہ صرف طاقت کا امتحان تھا بلکے صبر و استقامت کی بھی اعلیٰ مثال تھا۔
علمِ اسلام کا سوال اور علیؑ کے انتخاب کا مقدس لمحہ
محاصرے کے طویل دور کے دوران، جب فتح خیبر کا حصول مشکل نظر آنے لگا، تو رسول اللہﷺ نے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پرچمِ اسلام عطا فرمایا۔ حضرت ابوبکر نے بڑی بہادری سے لڑائی کی، مگر اس روز فتح حاصل نہ ہو سکی۔ اگلے دن، رسول اللہﷺ نے حضرت عمر فاروق کو یہ اعزاز عطا فرمایا۔ حضرت عمرؓ نے بھی بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا، لیکن فتح خیبر اس روز بھی ممکن نہ ہو سکی۔
اس نازک صورتحال میں، رسول اللہﷺ نے ایک تاریخی اعلان فرمایا، جو تاریخ اسلام میں ہمیشہ کے لیے سنہری حروف سے لکھا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
"کل میں یہ علم ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کا سچا محب ہے، اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ہرگز میدان جنگ سے پیٹھ نہیں پھیرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمادے۔”
یہ الفاظ سن کر تمام صحابہ کرامؓ ساری رات اس فکر میں گزارنے لگے کہ کل یہ عظیم اعزاز کس کے حصے میں آئے گا؟ ہر شخص کی خواہش تھی کہ یہ اعزاز اسے ملے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے الفاظ میں: "مجھے کبھی امارت کی اتنی تمنا نہیں ہوئی جتنی اس رات ہوئی تھی۔”
علیؑ کی بیماری اور رسول اللہﷺ کا معجزاتی علاج
اگلی صبح، جب پورا لشکر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپﷺ نے براہ راست حضرت علیؑ کا نام لیا۔ اس وقت حضرت علیؑ شدید بیمار تھے۔ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے، جس کی وجہ سے انہیں صحیح سے دکھائی تک نہیں دے رہا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ، علیؑ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔” رسول اللہﷺ نے فرمایا: "انہیں میرے پاس لاؤ۔”
حضرت علیؑ کو ایک خچر پر سوار کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپﷺ نے نرمی سے دریافت فرمایا: "اے علی، تمہیں کیا تکلیف ہے؟” حضرت علیؑ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ، میں آشوب چشم میں مبتلا ہوں، مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا، اور سر میں بھی شدید درد ہے۔” رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اے علی، بیٹھ جاؤ اور اپنا سر میری گود میں رکھو۔”
حضرت علیؑ نے آپﷺ کے حکم کی تعمیل کی۔ رسول اللہﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں پر اپنا لعاب دہن ڈالا اور اسے حضرت علیؑ کی آنکھوں اور سر پر لگایا۔ یہ ایک معجزاتی لمحہ تھا۔ جیسے ہی رسول اللہﷺ کا لعاب دہن لگا، حضرت علیؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور تمام تکلیف ایسے غائب ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی: "خدایا، علیؑ کو گرمی اور سردی سے بچانا۔” یہ معجزہ فتح خیبر کی کامیابی کی پہلی شرط ثابت ہوا۔
میدانِ جنگ میں علیؑ کی غیر معمولی بہادری
رسول اللہﷺ نے حضرت علیؑ کو سفید رنگ کا پرچمِ اسلام عطا فرمایا اور انہیں ہدایت فرمائی: "اے علی، علم لو اور چلے جاؤ۔ جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ کی نصرت تمہارے ساتھ ہے اور مخالفین کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا ہے۔”
حضرت علیؑ علمِ اسلام لے کر قلعے کی طرف بڑھے۔ آپ کے پیچھے پورا اسلامی لشکر تھا۔ قلعے کے قریب پہنچ کر آپ نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیا۔ ایک یہودی عالم نے قلعے سے آواز دی: "اے جوان، تم کون ہو؟” حضرت علیؑ نے فخر سے جواب دیا: "میں علی بن ابی طالب ہوں۔” یہودی عالم نے مڑ کر اپنی قوم سے کہا: "تم رات ہی سے مغلوب ہو چکے ہو۔”
اس کے بعد یہودیوں کا نامور بہادر جنگجو "مرحب” میدان میں آیا۔ اس نے رجز پڑھتے ہوئے اپنی طاقت کا ڈھنڈورا پیٹا۔ حضرت علیؑ نے اس کے جواب میں یہ تاریخی رجز پڑھا:
"میں وہ ہوں جسے اس کی ماں نے حیدر کے نام سے پکارا۔ میں جنگوں کا شیر ہوں۔ میں دشمنوں کے لیے تباہ کن آندھی ہوں۔ میں تم میں وسیع پیمانے پر قتل و خون ریزی کروں گا۔ میں اپنی تلوار سے کافروں کی گردنیں اڑاؤں گا۔”
حضرت علیؑ کے اس تعارف نے مرحب کے حواس پر سکتہ طاری کر دیا، کیونکہ اس کی دایا نے اسے بچپن میں ہی خبردار کیا تھا کہ کسی حیدر نامی شخص سے جنگ نہ کرنا۔ اس کے باوجود، حضرت علیؑ کے ساتھ ہونے والے تاریخی مقابلے میں، آپ نے ایک ہی وار میں مرحب کو شکست فاش دی۔ یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے فتح خیبر کی راہ ہموار کی۔
قلعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑنے کا عظیم واقعہ
مرحب کی شکست کے بعد، یہودی فوج حواس باختہ ہو کر قلعے میں داخل ہو گئی اور ایک بھاری پتھر کے دروازے کو بند کر لیا۔ یہ دروازہ انتہائی مضبوط تھا اور اسے چالیس آدمی مل کر بھی نہ ہلا سکتے تھے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب حضرت علیؑ نے اپنی غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دروازے کو اکھاڑ لیا۔
تاریخی روایات کے مطابق، حضرت علیؑ کے بائیں ہاتھ میں کمان تھی۔ آپ نے وہ کمان پھینک دی اور بائیں ہاتھ سے اس پتھر کے دروازے میں اس طرح جما دیا کہ وہ اکھڑ گیا۔ پھر آپ نے اس دروازے کو ایک ڈھال کی طرح استعمال کرتے ہوئے دشمن پر حملہ بول دیا۔ یہودی لشکر اس غیر متوقع حملے سے بالکل تتر بتر ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت علیؑ نے اس بھاری دروازے کو بائیں ہاتھ سے پیچھے کی طرف پھینکا، جو مسلمانوں کے سروں سے پرواز کرتا ہوا لشکر کے آخر میں جا گرا۔
ابن ابی الحدید نے اپنے قصیدہ میں اس عظیم کارنامے کو یوں خراج تحسین پیش کیا:
"اے وہ عظیم فاتح جس نے اس دروازے کو اکھاڑا تھا جسے چالیس آدمی مل کر بھی نہ ہلا سکتے تھے۔” یہ منظر فتح خیبر کا سب سے یادگار اور طاقتِ ایمانی کی سب سے بڑی علامت بنا، جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔
فتح کے بعد رسول اللہﷺ کی خصوصی دعائیں اور علیؑ کی فضیلت
فتح خیبر کے بعد، رسول اللہﷺ نے حضرت علیؑ کے فضائل میں انتہائی خصوصی ارشادات فرمائے۔ آپﷺ نے فرمایا:
"اے علی! اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے بارے میں وہی کہیں گے جو عیسائی عیسیٰؑ کے بارے میں کہتے ہیں، تو میں تمہارے ایسے فضائل بیان کرتا کہ تم جہاں سے گزرتے، لوگ تمہاری خاکِ قدم اور تمہارے وضو کا پانی شفا کے لیے اٹھاتے۔
لیکن تمہارے لیے اتنی بات کافی ہے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ تم میرے وارث ہو اور میں تمہارا وارث ہوں۔ تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور تمہاری صلح میری صلح ہے۔ تمہارے شیعہ جنت میں نور کے سفید منبروں پر بیٹھے ہوں گے، ان کے چہرے میری طرف ہوں گے، میں ان کی شفاعت کروں گا اور وہ جنت میں میرے ہمسائے ہوں گے۔”
یہ ارشادات نہ صرف فتح خیبر میں حضرت علیؑ کے کردار کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت کے روحانی مقام کو بھی واضح کرتے ہیں۔
فتح خیبر کے تاریخی اثرات اور سبق
فتح خیبر محض ایک زمینی فتح نہیں تھی بلکہ اس کے گہرے تاریخی اور روحانی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ فتح مسلمانوں کے لیے طاقت اور عزم کا ایک بڑا ماخذ ثابت ہوئی۔ اس فتح نے نہ صرف یہودیوں کی طاقت کو شکست دی بلکہ تمام مخالفین کے دل میں مسلمانوں کے لیے رعب پیدا کیا۔
فتح خیبر سے ہمیں متعدد اہم سبق ملتے ہیں: پہلا سبق یہ کہ ایمان کی طاقت مادی طاقت پر غالب آتی ہے۔ دوسرا سبق یہ کہ قیادت کے لیے صرف طاقت ہی کافی نہیں، بلکہ تقویٰ اور اللہ کی محبت ضروری ہے۔ تیسرا سبق یہ کہ صبر و استقامت سے کام لینا چاہیے، کیونکہ آخرکار فتح ایمان والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ چوتھا سبق یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کے لیے غیر معمولی طرقے اختیار فرماتا ہے۔
نتیجہ
فتح خیبر کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جو ہمیں ایمان، وفاداری، بہادری اور استقامت کی لازوال داستان سناتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف حضرت علیؑ کی شخصیت کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ رسول اللہﷺ کی قیادت اور تربیت کے معجز نما اثرات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ فتح خیبر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق اور باطل کی کشمکش میں ہمیشہ حق کی فتح ہوتی ہے، بشرطیکہ ایماندارانہ عمل، مضبوط یقین اور اللہ پر توکل کو اپنا شیوہ بنایا جائے۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنا رہے گا اور آنے والی نسلوں کو طاقت و عزم کا پیغام دیتا رہے گا۔
ضمانت(Disclaimer):
یہ بلاگ پوسٹ تاریخی واقعات پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ مصنف نے کوشش کی ہے کہ معتبر تاریخی مصادر سے معلومات فراہم کی جائیں، لیکن قارئین سے درخواست ہے کہ وہ مزید تحقیق کے لیے مستند مآخذ کا خود بھی مطالعہ کریں۔
تاریخی اختلافات:
تاریخی واقعات کے بارے میں مختلف مصادر میں اختلافات موجود ہو سکتے ہیں۔ اس پوسٹ میں جو بیانات پیش کیے گئے ہیں، وہ معروف تاریخی روایات پر مبنی ہیں۔
مذہبی نقطہ نظر:
یہ مواد کسی خاص مذہبی نقطہ نظر کو مسلط کرنے کے بجائے تاریخی حقائق پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مختلف مسالک کے تاریخی واقعات کے بارے میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔
سیاسی مقاصد:
اس تحریر کا مقصد کسی سیاسی ایجنڈے کی ترویج کرنا نہیں ہے۔ یہ محض تاریخی واقعات کی عکاسی کرتی ہے۔
حقوقِ اشاعت:
اس تحریر میں استعمال ہونے والے تمام تاریخی حوالے عوامی دائرہ کار (Public Domain) میں موجود ہیں۔ تحریر کے متن کی حق اشاعت مصنف کے پاس محفوظ ہے۔
تازہ کاری:
مصنف کو حق حاصل ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اس تحریر میں تازہ ترین معلومات کی روشنی میں ترمیم و اضافہ کر سکتا ہے۔
رائے کی آزادی:
اس تحریر میں پیش کیے گئے بیانات مصنف کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں۔ قارئین اپنی رائے بتانے میں آزاد ہیں۔
غیر جانبدارانہ رویہ:
اس تحریر میں غیر جانبدارانہ تاریخی بیانات پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کسی بھی گروہ یا جماعت کے جذبات کو مجروح کرنا مقصود نہیں ہے۔
تاریخی تشریح:
تاریخی واقعات کی تشریح مختلف نقطہ ہائے نظر سے کی جا سکتی ہے۔ اس تحریر میں پیش کی گئی تشریح مصنف کی ذاتی تفہیم پر مبنی ہے۔
فکری ملکیت:
اس تحریر کے تمام حقوق محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت اس مواد کی کاپی، نقل یا اشاعت ممنوع ہے۔
وابستگی:
یہ تحریر کسی سیاسی، مذہبی یا تنظیمی وابستگی کی ترجمان نہیں کرتی۔
تازہ ترین معلومات:
قارئین سے درخواست ہے کہ تاریخی معاملات میں مزید تحقیق کے لیے مستند مصادر کا رجوع کریں۔
رابطہ:
کسی بھی سوال یا تبصرے کے لیے مصنف سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت:
یہ تحریر 2025 میں شائع کی گئی ہے۔
تازہ کاری کی تاریخ:
آخری تازہ کاری: 2025
اختیاط:
تاریخی بیانات میں ممکنہ اختلافات کے پیش نظر قارئین سے گزارش ہے کہ وہ مختلف مصادر کا موازنہ کر کے اپنی رائے قائم کریں۔
ذمہ داری:
مصنف کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا اختلاف رائے کی صورت میں ذمہ دار نہیں ہوگا۔
استعمال کی شرائط:
اس تحریر کو پڑھنے والا تمام قارئین ان شرائط سے خود بخود متفق سمجھا جائے گا۔
تاریخی حوالہ جات:
تحریر میں پیش کردہ واقعات کے حوالہ جات معتبر تاریخی کتب سے لیے گئے ہیں۔
اختتامی نوٹ:
یہ تحریر صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے متعلقہ ماہرین سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔


