اہلِ بیتؑ کی تاریخ

فتح مکہ نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی کا ایک نہایت ہی اہم اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہ محض ایک شہر کی فتح کا واقعہ نہیں، بلکہ حق پرستی پر مبنی ایک ایسی عظیم الشان فتح تھی جس نے نہ صرف جزیرہ نما عرب کی سیاسی اور مذہبی جغرافیہ کو بدل کر رکھ دیا، بلکہ اس نے رحمت، درگزر، اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی ایک لازوال مثال بھی قائم کی۔ فتح مکہ کا واقعہ درحقیقت صبر، حکمت، وفا شعارری، اور پھر عظیم الشان کامیابی کا ایک جامع باب ہے۔ یہ مضمون فتح مکہ کے پس منظر، اسباب، واقعات، اور اس کے دور رس نتائج کو تفصیل سے بیان کرے گا، تاکہ قاری اس عظیم تاریخی موڑ کی گہرائیوں کو سمجھ سکے۔

 صلح حدیبیہ – فتح مبین اور فتح مکہ کی بنیاد

فتح مکہ کی راہ دراصل صلح حدیبیہ سے ہو کر گزری۔ 6 ہجری میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کا ارادہ فرمایا۔ قریش مکہ نے مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روک دیا۔ طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ صلح طے پایا، جس کی چند اہم شرائط یہ تھیں:

 

    1. مسلمان اس سال بغیر عمرہ ادا کیے مدینہ واپس چلے جائیں گے، لیکن اگلے سال تین دن کے لیے مکہ آسکیں گے۔

    1. دونوں فریق دس سال تک جنگ بندی پر راضی ہوں گے۔

    1. دونوں فریق ایک دوسرے کے حلیف قبائل پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔

    1. اگر قریش کا کوئی فرد بغیر اپنے سرپرست کی اجازت کے مدینہ آکر اسلام قبول کرے، تو مسلمان اسے واپس کر دیں گے۔ البتہ اگر کوئی مسلمان قریش کے پاس چلا جائے، تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

یہ شرائط ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں سخت تھیں، مگر درحقیقت یہ معاہدہ ایک عظیم سیاسی فتح تھی، جسے قرآن مجید میں "فتح مبین” (کھلی ہوئی فتح) قرار دیا گیا۔ قریش نے اس معاہدے کے ذریعے پہلی بار مدینہ کی ریاست کو ایک مساوی فریق کے طور پر تسلیم کر لیا۔ اس امن کے دور نے اسلام کے پیغام کو پورے عرب میں پھیلنے کا زبردست موقع دیا۔ یہی وہ پرامن ماحول تھا جس نے آگے چل کر فتح مکہ کے لیے زمین ہموار کی۔

 قریش کی پیمان شکنی – فتح مکہ کا فوری سبب

صلح حدیبیہ کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے حلیف قبائل پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ تھے، جبکہ قریش کے حلیف بنو بکر بن عبد منات تھے۔ ان دونوں قبائل میں زمانہ قدیم سے دشمنی چلی آ رہی تھی، جو معاہدہ صلح کی وجہ سے دب گئی تھی۔

لیکن قریش کے دل میں اسلام کے خلاف عداوت برقرار تھی۔ انہوں نے بنو بکر کو ہتھیاروں اور آدمیوں سے مدد فراہم کی، جس کی وجہ سے بنو بکر نے یکایک بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب بنو خزاعہ کے لوگ حرم کی پناہ میں تھے، مگر بنو بکر اور قریش کے چند شرپسندوں (جیسے صفوان بن امیہ، عکرمہ بن ابی جہل، اور سہیل بن عمرو) نے حرمتِ مکہ کو پامال کرتے ہوئے وہاں بھی خونریزی کی۔

بنو خزاعہ کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا۔ انہوں نے اپنے سردار عمرو بن سالم خزاعی کی قیادت میں ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی بے چارگی اور قریش کی پیمان شکنی کی داستان سنائی۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے فتح مکہ کے عمل کو حتمی شکل دے دی۔

 قریش کو آخری موقع اور ابوسفیان کی ناکام سفارت

بنو خزاعہ کی فریاد سن کر رسول اللہ ﷺ نے قریش کے پاس ایک پیغام بھیجا، جس میں تین شرائط پیش کی گئیں:

 

    1. قریش بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کرے۔

    1. یا پھر وہ بنو بکر کی امداد اور حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔

    1. اگر وہ ان دونوں میں سے کسی ایک شرط کو بھی قبول نہ کریں، تو صلح حدیبیہ ختم سمجھی جائے گی۔

قریش نے انصاف کی ان دونوں شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کی اس ضد نے فتح مکہ کو ناگزیر بنا دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ اب قریش اور مسلمانوں کے درمیان کوئی معاہدہ باقی نہیں رہا۔

اس اعلان سے قریش میں ہڑکمپی مچ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔ انہوں نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اپنے تجربہ کار سردار ابوسفیان کو مدینہ بھیجا، تاکہ وہ کسی طرح معاہدہ صلح کی تجدید کرا سکے۔

ابوسفیان کا مدینہ آنا اور مختلف صحابہ کرام سے سفارش کی درخواست کرنا، فتح مکہ سے پہلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس نے سب سے پہلے اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بستر کو سمیٹ کر ہٹا دیا، کیونکہ وہ ایک مشرک کو اس مقدس بستر پر بیٹھنا گوارا نہیں کر سکتی تھیں۔ پھر اس نے خود نبی ﷺ، پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سفارش کی درخواست کی، مگر ہر جگہ سے اسے مایوسی ہی ہاتھ آئی۔

آخر میں وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نرم گفتاری سے کام لیا، لیکن رسول اللہ ﷺ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ جب ابوسفیان نے مشورہ مانگا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم خود ہی مسجد میں کھڑے ہو کر معاہدہ صلح کی تجدید کا اعلان کر دو اور پھر مکہ واپس چلے جاؤ۔ یہ ایک وقتی چال تھی۔ ابوسفیان نے ایسا ہی کیا، مگر جب وہ مکہ پہنچا اور قریش کو پوری بات بتائی، تو انہوں نے اس کی اس یک طرفہ اعلان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اس طرح، فتح مکہ سے پہلے امن کی آخری کوشش بھی ناکام ہو گئی۔

 خفیہ تیاریاں اور حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ

جب بات جنگ تک پہنچ گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے انتہائی رازداری اور حکمت عملی کے ساتھ تیاریاں شروع کر دیں۔ آپ ﷺ نے مدینہ کے لوگوں کے ساتھ ساتھ باہر کے قبائل کو بھی پیغام بھیجا کہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ مدینہ میں جمع ہوں۔ آپ ﷺ نے یہ احتیاط بھی فرمائی کہ کسی کو بھی یہ معلوم نہ ہو کہ لشکر کس جانب جا رہا ہے، تاکہ قریش کو کوئی اطلاع نہ ہونے پائے اور اچانک فتح مکہ کا عمل مکمل ہو سکے۔

تاہم، ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ، جن کے اہل و عیال مکہ میں تھے، نے اپنے خاندان کے تحفظ کی غلط فہمی میں ایک خط لکھ کر ایک عورت کے ذریعے قریش کو بھیجا، جس میں مسلمانوں کے حملے کی خفیہ معلومات درج تھیں۔ یہ عمل درحقیقت فتح مکہ کی کامیابی کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو وحی کے ذریعے اس سازش سے آگاہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے فوراً حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو اس عورت کے تعاقب میں بھیجا۔ انہوں نے اسے راستے میں پکڑ لیا۔ ابتدائی انکار کے بعد، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سختی سے خط کا مطالبہ کیا، تو اس نے اپنے سر کے بالوں میں چھپایا ہوا خط نکال کر دے دیا۔

خط کے ساتھ مدینہ واپس پہنچنے پر رسول اللہ ﷺ نے حاطب کو بلایا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے وضاحت پیش کی کہ ان کا مقصد اسلام سے غداری نہیں، بلکہ صرف اپنے بے بس خاندان کو قریش کے ممکنہ انتقام سے بچانا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے میں تھے اور ان کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی، لیکن رحمت عالم ﷺ نے معاف فرما دیا۔ اس موقع پر قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی: "تم ان (کافروں) سے دوستی رکھتے ہو، حالانکہ وہ جو کچھ تم چھپا کر اور کھلم کھلا کرتے ہو، میں اسے خوب جانتا ہوں، اور تم میں سے جو ایسا کرے گا وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا۔” (سورہ الممتحنہ، آیت: 1)

 عظیم لشکر کا مدینہ سے روانگی اور عباسی حکمت عملی

10 رمضان المبارک 8 ہجری کو نبی اکرم ﷺ دس ہزار مسلمانوں کے پرعزم لشکر کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ یہ وہی مہینہ تھا جس میں بعد میں فتح مکہ کی سعادت حاصل ہونی تھی۔ راستے میں آپ ﷺ نے خود اور تمام لشکر نے روزہ افطار کر لیا، تاکہ جنگ کی تیاری کے لیے پوری طاقت برقرار رہے۔

جب لشکر مر الظہران کے مقام پر پہنچا، تو آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ یہ فتح مکہ کے لیے ایک اور نعمت تھی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ابوسفیان، حکیم بن حزام، اور بدیل بن ورقاء کو، جو مکہ کے باہر جاسوسی کر رہے تھے، پکڑ لیا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا۔

ابوسفیان اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہونے والا مکالمہ تاریخ کا ایک یادگار واقعہ ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "کیا تمہیں اب بھی یقین نہیں آیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟” ابوسفیان نے کہا: "آپ نے میرے والد کی جان بخشی، آپ بڑے شریف اور رحم کرنے والے ہیں۔ قسم ہے! اگر اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتا تو وہ آج میرے کام آتا۔” پھر آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا تمہیں اب بھی یقین نہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟” ابوسفیان نے کہا: "اس بارے میں میرے دل میں ابھی کچھ تردد ہے۔” حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں سمجھایا کہ اسلام قبول کر لو، ورنہ تمہاری جان خطرے میں پڑ جائے گی۔ آخرکار مجبور ہو کر ابوسفیان نے کلمہ پڑھ لیا۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی سفارش پر رسول اللہ ﷺ نے عام امان کا اعلان فرمایا:

 

    • جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے، اس کے لیے امان ہے۔

    • جو شخص مسجد حرام میں پناہ لے، اس کے لیے امان ہے۔

    • جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے، اس کے لیے امان ہے۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کو ایک بلند مقام پر لے جا کر مسلمانوں کے عظیم اور منظم لشکر کا نظارہ کرایا۔ یہ منظر دیکھ کر ابوسفیان دہل گیا اور بے ساختہ کہا: "تمہارے بھتیجے کی سلطنت تو آج بہت وسیع ہو گئی ہے!” حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فوراً جواب دیا: "یہ سلطنت نہیں، نبوت کا شکوہ و جلال ہے۔” ابوسفیان نے کہا: "ہاں، اب مجھے بھی یقین ہو گیا ہے۔”

ابوسفیان واپس مکہ پہنچا اور قریش کو عام امان کے اعلان سے آگاہ کیا۔ اس نے انہیں سمجھایا کہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنا اب تمہارے بس کی بات نہیں، بہتر ہے کہ تم بھی امان کے دائرے میں آ جاؤ۔ اس کی بیوی ہندہ بنت عتبہ (جس کا باپ غزوہ بدر میں مارا گیا تھا) ابتدا میں غصے میں آگئی، لیکن ابوسفیان نے اسے سمجھایا کہ اب مزید ضد کرنا جان سے ہاتھ دھونا ہوگا۔

 مکہ میں پرامن داخلہ اور تاریخی عام معافی

رمضان المبارک کی 20 تاریخ کو نبی اکرم ﷺ اپنا لشکر لے کر مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے لشکر کو چار حصوں میں تقسہ فرمایا اور ہر ایک کو مکہ میں داخل ہونے کا ایک راستہ دیا۔ یہ انتظام اس لیے تھا تاکہ اگر کسی ایک محاذ پر مزاحمت ہو، تو دوسرے محاذوں سے فوری طور پر مداخلت کی جا سکے۔

آغاز میں علم (جھنڈا) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے جوش میں آ کر یہ الفاظ کہے: "آج جنگ کا دن ہے، آج حرمت حلال کی جائے گی۔” یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کو خدشہ ہوا کہ کہیں وہ انتقامی کارروائی پر نہ اتر آئیں۔ آپ ﷺ نے فوراً حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جنہوں نے سعد بن عبادہ سے علم لے لیا اور خود ہی علمبردار بن کر مکہ میں داخل ہوئے۔ یہ فتح مکہ کی قیادت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مرکزی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

فتح مکہ کا یہ دن تاریخ میں اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی۔ صرف خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی کمان میں ایک دستے کو بنو بکر کے چند شرپسندوں نے زیریں مکہ میں مزاحمت کی، جسے فوری طور پر کچل دیا گیا۔ اس کے علاوہ سارا شہر پرامن طریقے سے فتح ہو گیا۔

نبی اکرم ﷺ براہ راست خانہ کعبہ پہنچے اور طواف کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر ان قریش کے سرداروں سے خطاب فرمایا، جنہوں نے ماضی میں آپ ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اے قریش کے لوگو! تم سمجھتے ہو کہ میں اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟”

سناٹا چھا گیا۔ پھر قریش کے خطیب، ابوسفیان بن حارث نے یا خود ابوسفیان نے (روایات میں اختلاف ہے) کہا: "ہم آپ سے بھلائی ہی کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ ایک کریم بھائی اور کریم بھتیجے ہیں۔”

یہ سن کر رحمت عالم ﷺ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا:
"لا تثريب عليكم اليوم، اذهبوا فأنتم الطلقاء.”
(آج تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔)

یہ عام معافی انسانیت کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جس شہر سے آپ ﷺ کو جان بچا کر نکلنا پڑا تھا، جس کے لوگوں نے آپ ﷺ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے تھے، آج آپ ﷺ ان سب کو بلا کسی شرط کے معاف کر رہے تھے۔ یہی تو روح فتح مکہ تھی: ظلم پر عدل کی، انتقام پر درگزر کی، اور کفر پر اسلام کی فتح۔

 کعبہ کی تطہیر اور چند مخصوص مجرموں کا انجام

فتح مکہ کے بعد سب سے پہلا کام نبی اکرم ﷺ نے یہ کیا کہ خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر چڑھایا، اور انہوں نے کعبہ کی چھت پر موجود بتوں کو توڑ کر نیچے پھینک دیا۔ اس طرح خانہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہو گیا اور توحید کا گہوارہ بن گیا۔

اگرچہ عام معافی کا اعلان ہو چکا تھا، لیکن چند ایسے مجرم تھے جن کے مخصوص جرائم (قتل ناحق، رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرنا) کی وجہ سے انہیں امان سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ان میں عبداللہ بن خطل (اور اس کی وہ لونڈیاں جو آپ ﷺ کی ہجو گاتی تھیں)، مقیس بن صبابہ، اور حویرث بن نقیذ شامل تھے۔ ان میں سے اکثر کو ان کے جرائم کی سزا دے دی گئی۔ تاہم، ان میں سے کچھ، جیسے عکرمہ بن ابی جہل، بعد میں معاف کر دیے گئے جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

 فتح مکہ کے بعد کے واقعات اور حضرت علی کا کردار

فتح مکہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں قیام فرمایا اور لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سمجھائیں۔ آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مکہ میں قرآن اور دین سکھانے کے لیے مقرر فرمایا۔

اس سارے عظیم الشان واقعے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کردار انتہائی مرکزی اور مثالی تھا۔

 

    • وہ رازداری کے امین تھے۔

    • انہوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے خط کو بروقت پکڑ کر فتح مکہ کی کامیابی کو یقینی بنایا۔

    • انہوں نے ابوسفیان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر کے حالات کو بہتر بنایا۔

    • فتح مکہ کے دن علمبردار بن کر شہر میں داخل ہوئے۔

    • انہوں نے کعبہ کے بتوں کو توڑ کر اس کی تطہیر میں کردار ادا کیا۔

    • انہوں نے اپنی بہن ام ہانی رضی اللہ عنہا کی پناہ میں چھپے ہوئے چند مشرکین کو بھی قانون کے مطابق ہی گرفتار کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے خود انہیں معاف فرما دیا۔

یہ سب کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بے مثال اطاعت رسول، بہادری، اور قانون پرستی کو ظاہر کرتا ہے۔

 فتح مکہ کے اثرات اور نتائج

فتح مکہ کا واقعہ محض ایک شہر کی فتح نہ تھی، بلکہ اس کے اثرات نہایت دوررس اور گہرے تھے:

 

    1. کفر کے مرکز کا خاتمہ: مکہ، جو صدیوں سے شرک اور جاہلیت کا مرکز تھا، اب توحید اور اسلام کا گہوارہ بن گیا۔

    1. عرب میں اسلام کی بالادستی: فتح مکہ کے بعد پورے عرب میں اسلام کی طاقت مسلم ہو گئی۔ قبائل کے وفود اسلام قبول کرنے کے لیے آنے لگے۔

    1. انسانی حقوق کا تحفظ: عام معافی کے اعلان نے انسانی حقوق، درگزر، اور رواداری کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔

    1. سیاسی اتحاد: فتح مکہ نے عرب کے قبائل کو ایک مرکزی ریاست (مدینہ) کے تحت متحد ہونے کی راہ دکھائی۔

    1. غزوہ حنین: فتح مکہ کے فوری بعد ہونے والا غزوہ حنین درحقیقت اس فتح کے بعد ابھرنے والے نئے چیلنجز میں سے ایک تھا، جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔

اختتام

فتح مکہ اسلام کی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے جس کی روشنی آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ یہ فتح صرف تلوار سے نہیں، بلکہ صبر، حکمت، وفا شعارری، اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے حاصل ہوئی۔ اس میں ظلم کرنے والوں کو معاف کر کے یہ سبق دیا گیا کہ اصل فتح دلوں کو جیتنا ہے۔ فتح مکہ کی یہی روح ہے جس نے اسلام کو ایک عالمگیر مذہب بنایا اور یہ واقعہ ہمیشہ ہمارے سامنے امن، عدل، اور رحمت کی ایک زندہ مثال کے طور پر روشن رہے گا۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔

Leave a Comment