اہلِ بیتؑ کی تاریخ

رسول اللہ ﷺ کے زیرِ سایہ حضرت علیؑ کی پرورش

سلام کی تاریخ میں حضرت علیؑ کی شخصیت کو ایک منفرد اور بے مثال مقام حاصل ہے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایمان، قربانی اور اخلاص کا آئینہ دار ہے۔ لیکن ان کی عظمت کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ حضرت علیؑ کی پرورش براہِ راست رسول اللہ ﷺ کے زیرِ سایہ ہوئی۔ یہ پرورش صرف جسمانی دیکھ بھال نہیں تھی بلکہ روحانی تربیت اور ایمانی روشنی سے بھرپور تھی، جو آگے چل کر حضرت علیؑ کو اسلام کا عظیم ستون بناتی ہے۔


ولادت اور ابتدائی پرورش

حضرت علیؑ کی ولادت خانہ کعبہ میں ایک معجزہ کی صورت میں ہوئی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد غیر معمولی ہے۔

  • ولادت کے فوراً بعد ہی رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اپنی گود میں اٹھایا۔

  • نبی کریم ﷺ کو آپ سے بے پناہ محبت تھی اور آپ زیادہ تر وقت انہی کے قریب گزارتے۔

  • اسی لمحے سے حضرت علیؑ کی پرورش کا آغاز ہوا جو بعد میں ایک عظیم اسلامی وراثت کی شکل اختیار کر گئی۔

یہ پہلا مرحلہ اس بات کا اعلان تھا کہ علیؑ کی تربیت کسی عام خاندان میں نہیں بلکہ نبوت کے زیرِ سایہ ہونے والی ہے۔


گھر کا ماحول اور کردار سازی

حضرت علیؑ کا بچپن حضرت ابو طالبؑ کے گھر میں گزرا۔ ابو طالبؑ اپنے قبیلے کے معزز سردار تھے لیکن مالی حالات کمزور تھے۔ گھر کا ماحول قریش کے دوسرے گھروں جیسا نہ تھا بلکہ:

  • مہمان نوازی، سخاوت اور صبر کی تربیت دیتا تھا۔

  • دینِ ابراہیمی کی جھلک اس گھر میں نظر آتی تھی۔

  • غربت کے باوجود عزت، وقار اور اللہ پر بھروسہ ہر فرد کی زندگی کا حصہ تھا۔

اسی ماحول میں حضرت علیؑ نے صبر، شکر اور خدمت کے اوصاف کم عمری ہی سے سیکھ لیے۔ یہی وہ ابتدائی مراحل تھے جہاں سے حضرت علیؑ کی پرورش ایک مضبوط بنیاد پر استوار ہوئی۔


رسول اللہ ﷺ کی محبت میں پرورش

رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ہی حضرت علیؑ کی اصل درسگاہ تھی۔ آپ بچپن ہی سے رسول اللہ ﷺ کے قریب رہے اور ان کے معمولاتِ زندگی کا مشاہدہ کرتے رہے۔

  • جب بھی رسول اللہ ﷺ عبادت کے لیے کھڑے ہوتے تو حضرت علیؑ بھی ساتھ ہوتے۔

  • کھانے، سونے، اٹھنے بیٹھنے میں علیؑ نبی ﷺ کے قریب رہتے اور ان کے ہر عمل سے سیکھتے۔

  • حضرت علیؑ کی پرورش میں رسول اللہ ﷺ کا کردار مرکزی تھا، کیونکہ وہ صرف چچا زاد نہ تھے بلکہ ایک روحانی باپ کی طرح بھی علیؑ کو پروان چڑھاتے تھے۔


قرآن اور تربیت کا تعلق

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ
(الکہف: 28)
"اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔”

یہ آیت حضرت علیؑ کی پرورش پر بھی منطبق ہوتی ہے کیونکہ بچپن ہی سے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کی عبادت میں شریک رہے۔


غربت اور صبر کی تعلیم

ابو طالبؑ کے گھر میں مالی تنگی ضرور تھی، مگر یہ تنگی حضرت علیؑ کے لیے درسِ حیات ثابت ہوئی۔ انہوں نے کم عمری ہی میں جان لیا کہ دنیا کی اصل حقیقت دولت نہیں بلکہ ایمان اور صبر ہے۔ اسی صبر کی بدولت حضرت علیؑ نے آگے چل کر اسلامی تاریخ میں بڑے بڑے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔


احادیث کی روشنی میں حضرت علیؑ کی پرورش

رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کے بارے میں فرمایا:

  • "علی میرے ساتھ ہے اور میں علی کے ساتھ ہوں۔” (ترمذی)

  • "علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔” (مسند احمد)

یہ اقوال اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی پرورش رسول اللہ ﷺ کی قربت اور محبت سے جڑی ہوئی تھی۔


بچپن میں عبادت اور ایمان

حضرت علیؑ وہ خوش نصیب تھے جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا۔ بچپن میں ہی جب اسلام کا اعلان ہوا، تو سب سے پہلے نبی ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے والے حضرت علیؑ ہی تھے۔ یہ اس پرورش کی کامیابی تھی جو بچپن سے نبی ﷺ کے ساتھ گزاری گئی تھی۔


حضرت علیؑ کی پرورش کے اثرات

یہ پرورش صرف بچپن تک محدود نہ رہی بلکہ:

  • جوانی میں حضرت علیؑ اسلام کے سب سے بڑے مجاہد بنے۔

  • علم و حکمت میں وہ سب سے آگے تھے۔

  • عدل، شجاعت اور تقویٰ کی مثال بن گئے۔

یقیناً یہ سب کچھ اسی وجہ سے تھا کہ حضرت علیؑ کی پرورش رسول اللہ ﷺ جیسے معلم کامل کے ہاتھوں ہوئی۔


نتیجہ

حضرت علیؑ کی ابتدائی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر پرورش ایمان، محبت اور اخلاص کی بنیاد پر ہو تو انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ حضرت علیؑ کی پرورش ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بچوں کو دین، صبر اور اخلاق کے ساتھ پروان چڑھانا سب سے بڑی کامیابی ہے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔

Leave a Comment