اہلِ بیتؑ کی تاریخ

خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام: توحید کی حتمی فتح کی داستان

 

خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام اسلام کی تاریخ کا وہ عظیم الشان واقعہ ہے جس نے نہ صرف جزیرہ نمائے عرب سے شرک کے تاریک دور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا، بلکہ اس مقدس مقام کو ایک بار پھر سے اللہ واحد کے لیے مختص کر دیا۔ یہ محض ایک فوجی فتح نہیں تھی، بلکہ ایک روحانی اور تہذیبی انقلاب تھا جس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے کفر و شرک کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں۔ خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کا عمل درحقیقت پتھر کے ٹکڑوں کو توڑنے سے کہیں بڑھ کر تھا؛ یہ غلامی، جہالت اور انانیت کے تمام باطن بتوں کو پاش پاش کرنے کا اعلان تھا۔ یہ مضمون اس تاریخی واقعے کے پس منظر، اس کے اہم کرداروں، اور اس کے دوررس اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کی مکمل داستان بیان کرے گا۔

شرک کا آغاز: کس طرح خانہ کعبہ صنم کدہ بنا

خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کی کہانی کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ بت وہاں آئے کیسے؟ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ عمرو بن لحی خزاعی، جو اس وقت مکہ کا سردار تھا، نے شام کے علاقے میں عمالقہ قوم کو بت پرستی کرتے دیکھا۔ اگرچہ اسے ان بتوں کی پرستش میں کوئی خاص روحانی فائدہ نظر نہیں آیا، لیکن تراشے ہوئے پتھروں کی صنعت کاری اور ان کی جاذبیت اسے بھا گئی۔ اس نے کچھ بت اٹھا کر مکہ لے آئے اور انہیں خانہ کعبہ کے گرد نصب کر کے لوگوں کو ان کی پرستش کی دعوت دی۔

آہستہ آہستہ، اہل مکہ کی اکثریت نے بت پرستی اختیار کر لی۔ یوں خانہ کعبہ، جو دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا، ایک صنم کدہ میں تبدیل ہو گیا اور مکہ بت پرستی کا مرکز بن گیا۔ قریش کا سب سے بڑا دیوتا "ہبل” تھا جو خانہ کعبہ کی بلندی پر نصب تھا۔ اس کے اردگرد سینکڑوں چھوٹے بڑے بت رکھے گئے تھے۔ یہاں تک کہ سال کے 360 دنوں میں سے ہر دن ایک خاص بت کی پرستش کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔

مکہ والوں کی دیکھا دیکھی دور دراز کے علاقوں کے لوگ بھی بت پرستی کی طرف مائل ہو گئے۔ جب وہ حج یا عمرے کے لیے مکہ آتے تو حرم سے پتھر اٹھا کر لے جاتے اور انہیں مکہ کے بتوں کی شکل و صورت میں تراش کر اپنے علاقوں میں نصب کر لیتے۔ یوں پورے عرب میں بت پرستی عام ہو گئی اور ہر قبیلے نے اپنے لیے الگ الگ بت بنا لیے۔

  • مقام نخلہمیں "العزّٰی” کی مورتی تھی جو قریش اور بنو کنانہ کے لیے عقیدت کا مرکز تھی۔
  • طائفمیں "لات” نصب تھا جو بنو ثقیف کا دیوتا تھا۔
  • مدینہکے قریب "منات” نصب تھا جو اوس و خزرج اور غسان کا دیوتا کہلاتا تھا۔
  • نجرانمیں قبیلہ ہمدان "یعقوق” کی پوجا کرتا تھا۔
  • دومۃ الجندلمیں بنو کلب کا دیوتا "ود” تھا۔

لوگوں کا عقیدہ: وسیلہ یا شریک؟

اس وقت کے بت پرستوں کے عقائد دو قسم کے تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جو ان پتھر کے بتوں کو حس و حرکت سے عاری ہونے کے باوجود اللہ کا شریک سمجھتا تھا۔ وہ ان کے سامنے گڑگڑاتے، اپنی حاجتیں مانگتے اور ان سے ڈرتے تھے، حالانکہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ایک پتھر آخر کسی کو کیا دے سکتا ہے یا کسی سے کیا چھین سکتا ہے۔

دوسرا گروہ ان بتوں کو وسیلہ مانتا تھا۔ وہ کہتے تھے: "مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى” (سورۃ الزمر:3) یعنی "ہم تو ان (بتوں) کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔” یہی وہ نفسیاتی گرہ تھی جسے قرآن پاک نے بڑی واضح طور پر کھولا اور یہ ثابت کیا کہ عبادت کا ہر وہ عمل جو غیر اللہ کے لیے کیا جائے، خواہ اسے وسیلہ ہی کیوں نہ سمجھا جائے، شرک ہے۔

فتح مکہ: مقصد صرف خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام تھا

جب رسول اللہ ﷺ 8 ہجری میں فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے، تو اس فتح کا مقصد سلطنت کی توسیع یا فاتح و کشور کشا کہلانا ہرگز نہیں تھا۔ اصل مقصد شرک کو مٹا کر توحید کا پرچم بلند کرنا تھا۔ چنانچہ مکہ پر قبضے کے فوراً بعد آپ ﷺ کی سب سے پہلی توجہ خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کی طرف مبذول ہوئی۔

اس موقع پر یہ اندیشہ تھا کہ ابھی ابھی مسلمان ہونے والے قریش کے جاہلی جذبات بھڑک اٹھیں گے اور وہ اپنے آبائی بتوں کی بے حرمتی دیکھ کر بغاوت پر اتر آئیں گے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنے فرض منصبی کے سامنے اس خطرے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ آپ ﷺ نے پہلے خانہ کعبہ کی دیواروں پر بنی ہوئی فرشتوں اور انبیاء کی تمام تصاویر کو مٹوایا، تاکہ اللہ کے گھر میں کسی کی بھی تصویر باقی نہ رہے۔

حضرت علی علیہ السلام کا کردار: ایک منفرد اور تاریخی اعزاز

پھر خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کا اصل مرحلہ آیا۔ جب نیچے والے تمام بت توڑ دیے گئے تو اوپر والے بتوں تک رسائی مشکل تھی۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: "اے علی، تم میرے کندھوں پر چڑھ کر ان بتوں کو توڑو گے یا میں تمہارے کندھوں پر سوار ہو کر انہیں توڑوں؟”

حضرت علی علیہ السلام نے فوراً عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ میرے کندھوں پر سوار ہو کر انہیں توڑیں۔” جب رسول اللہ ﷺ ان کے کندھوں پر سوار ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام نے کمزوری محسوس کی۔ بغیر کچھ کہے، آپ ﷺ خود ہی اتر آئے اور فرمایا: "اے علی، تم میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔”

یہ حضرت علی علیہ السلام کے لیے ایک عظیم اعزاز تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے مقدس کندھوں پر سوار ہوئے اور نہ صرف چھوٹے موٹے بتوں، بلکہ قریش کے سب سے بڑے دیوتا "ہبل” کو، جو اپنی سیخوں سے مضبوطی سے گڑا ہوا تھا، جھٹکا دے کر اکھاڑ لیا اور زمین پر اس زور سے پٹخا کہ وہ چور چور ہو گیا۔

قریش کے لیے یہ منظر انتہائی عبرتناک تھا۔ کل تک جس کے آگے وہ سجدے میں گرتے تھے، جس کے نام کے نعرے لگاتے تھے، آج وہی ان کے سامنے خاک میں مل رہا تھا۔ یہ تھا باطل کے بتوں کا حشر اور یہ تھی خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کی حتمی فتح۔

ایک روحانی معراج: توڑنے والے کے ہاتھوں کی تقدیس

حضرت علی علیہ السلام بت توڑ کر میزاب کی طرف سے نیچے اترے اور مسکراتے ہوئے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں اتنی بلندی سے کودا، مگر مجھے کوئی چوٹ نہیں آئی۔”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رفعت محمد او انزل بید جبرئیل۔ اے علی! چوٹ کیسے آتی، جب کہ محمد ﷺ نے تمہیں بلند کیا تھا اور جبرئیل امین نے تمہیں اتارا تھا۔”

یہ حضرت علی علیہ السلام کی روحانی بلندی اور ان کے مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ہاتھ جنہوں نے خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کیا، وہی وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے لوح محفوظ کی بلندیوں سے نازل ہونے والے قرآن کے صفحات کو سنبھالا تھا۔ گویا یہ ان کی ایک روحانی معراج تھی جو صاحب معراج ﷺ کے کندھوں پر انجام پائی۔

حضرت علی علیہ السلام ہی کیوں؟ ایک منتخب ہستی

اس موقع پر اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے جنہیں یہ کام سونپا جا سکتا تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس نبیوں کے کام کی تکمیل میں حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کی شرکت گوارا نہ کی۔ اس کی ایک واضح وجہ یہ تھی کہ حضرت علی علیہ اسلام کی پوری زندگی میں کبھی بھی کسی بت کے سامنے جھکے نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ سے معبود حقیقی کے آگے سجدہ ریز رہے تھے۔

دوسرے صحابہ کرام، جو بڑے ہو کر مسلمان ہوئے تھے، زندگی کے کسی نہ کسی دور میں ان بتوں کی پوجا ضرور کر چکے تھے۔ اگر انہیں یہ مقدس کام سونپا جاتا تو ممکن تھا کہ پرانے جاہلی جذبات یا رشتے ابھر آتے اور وہ بتوں پر ہاتھ اٹھانے میں جھجک محسوس کرتے۔ اس کی ایک واضح مثال اہل طائف ہیں، جنہوں نے مسلمان ہونے کے بعد بھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بت "لات” کو توڑنا گوارا نہ کیا اور انہوں نے خود کہا کہ ہم اسے اپنے ہاتھوں سے نہیں توڑ سکتے، آپ کسی اور سے توڑوا دیں۔

اس کے برعکس، حضرت علی علیہ السلام کا ایمان اس قدر پختہ اور شرک سے ان کی نفرت اس قدر کامل تھی کہ ان کے ہاتھوں خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کا تاریخی کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ یہ کام صرف ایک پختہ ایمان اور غیر متزلزل یقین رکھنے والے ہی انجام دے سکتے تھے۔

نتیجہ اور پیغام

خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام درحقیقت ایک علامتی عمل تھا جس نے نہ صرف عرب بلکہ پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ حقیقی طاقت اور عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے اندر کے بتوں—خود غرضی، غرور، لالچ، اور بری خواہشات—کو بھی توڑنا ضروری ہے۔ خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کا یہ تاریخی واقعہ ہر دور کے مسلمان کے لیے یہ سبق رکھتا ہے کہ توحید کی بنیاد پر ہی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سچی کامیابی اور نجات ممکن ہے۔ آج بھی جب ہم خانہ کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں، تو ہمیں خانہ کعبہ سے بتوں کا انہدام کی اس عظیم جدوجہد کو یاد کرنا چاہیے اور اپنے دلوں کو ہر قسم کے شرک سے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔