اسلامی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ ایک ایسا انقلابی واقعہ ہے جس نے نہ صرف دین کی بنیادوں کو مضبوط کیا بلکہ ایک منظم ریاست کے قیام کی راہ بھی ہموار کی۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری محض ایک عام سفر کی تیاری نہیں تھی، بلکہ یہ ایمان، قربانی اور حکمت عملی کا ایک عظیم شاہکار تھا۔ مکہ میں تیرہ سال کے عرصے میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے ظلم و جبر برداشت کیا، مگر جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔
قریش کا ظلم اور ہجرت کی ضرورت
مکہ میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ماننے والے دن بہ دن سختیوں میں گھر گئے۔ کبھی معاشی بائیکاٹ کیا گیا، کبھی سڑکوں پر مذاق اڑایا گیا، کبھی جسمانی اذیت دی گئی۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی نصرت کے لیے تیار کیا۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں، جن میں اہلِ مدینہ نے نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کی بلکہ یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ آپ کی حفاظت کریں گے۔
قریش نے جب دیکھا کہ اسلام کا اثر مدینہ تک پہنچ چکا ہے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ختم کرنے کی سازش کی۔ دارالندوہ میں قریش کے سردار جمع ہوئے اور طے کیا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک جوان مل کر رسول اللہ ﷺ کو قتل کرے تاکہ خون کا بدلہ کسی ایک قبیلے پر نہ آئے۔
قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ”
"اور جب کافر لوگ آپ کے بارے میں تدبیر کر رہے تھے کہ آپ کو قید کریں یا قتل کریں یا نکال دیں، اور وہ تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی اپنی تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔”
یہاں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری کا آغاز ہوا۔
ہجرت کی خفیہ منصوبہ بندی
رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے سفر کو نہایت حکمت کے ساتھ ترتیب دیا۔ آپ نے سب کچھ خفیہ رکھا تاکہ قریش کو اطلاع نہ ہو سکے۔
-
حضرت اسماء کو کھانے پینے کا انتظام دیا گیا۔
-
حضرت عبداللہ کو مکہ کے حالات کی خبر لانے کا کام دیا گیا۔
-
حضرت عامر بن فہیرہؓ کو بکریاں چرانے کی ذمہ داری دی گئی تاکہ مکہ اور غار کے درمیان کے نشانات مٹائے جا سکیں۔
یہ تمام انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری ایک منظم حکمت عملی کے ساتھ کی گئی تھی۔
حضرت علیؑ کی قربانی
ہجرت کی تیاری میں حضرت علیؑ کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اپنی جگہ بستر پر سونے کا حکم دیا تاکہ قریش کو دھوکہ ہو اور وہ سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ ابھی گھر میں موجود ہیں۔ حضرت علیؑ نے نوجوانی کے باوجود یہ خطرناک ذمہ داری قبول کی۔
البدایہ و النہایہ (ابن کثیر) کتاب: البداية والنهاية (جلد 3، صفحہ 218–220)
یہ محض ایک بستر پر سونا نہیں تھا بلکہ اپنی جان کو قربان کرنے کا عزم تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کفار نے صبح گھر کا محاصرہ کیا تو دیکھا کہ بستر پر حضرت علیؑ موجود ہیں، اور رسول اللہ ﷺ بحفاظت ہجرت کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ حضرت علیؑ کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی کہ:
-
رسول اللہ ﷺ کے پاس جو امانتیں تھیں وہ واپس کریں۔
-
اہلِ بیتؑ کو بعد میں مدینہ لے جائیں۔
یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری میں حضرت علیؑ کی وفاداری اور قربانی ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گی۔
غارِ ثور میں قیام
رسول اللہ ﷺ نے تین دن غارِ ثور میں قیام کیا تاکہ قریش کی تلاش ناکام ہو جائے۔ اس دوران دشمن قریب تک پہنچ گیا مگر اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی۔
قرآنِ کریم کی سورۃ التوبہ (آیت 40) اللہ تعالٰی نے فر مایا:
” إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ "
"اگر تم نبی کی مدد نہ کرو تو اللہ نے ان کی مدد کی جب کافروں نے انہیں نکالا اور وہ دو میں سے دوسرے تھے جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے: غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”
یہ غار کا واقعہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری کا حصہ ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی نصرت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
اہلِ مدینہ کا انتظار
مدینہ کے مسلمان روزانہ شہر کے دروازوں پر آ کر رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے۔ جب آپ مدینہ پہنچے تو خوشی کی لہریں دوڑ گئیں۔ "طلع البدر علینا” کے نغمے بلند ہوئے اور یوں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی۔
سبق اور پیغام
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری آج کے مسلمانوں کے لیے کئی اسباق رکھتی ہے:
-
بڑے فیصلے ہمیشہ حکمت اور منصوبہ بندی سے کرنے چاہئیں۔
-
دین کے لیے قربانی دینا ہی اصل وفاداری ہے۔
-
دشمن کی امانت بھی واپس کرنا اسلام کی دیانت کا تقاضا ہے۔
-
مشکلات میں صبر اور اللہ پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت ہے۔
اختتامیہ
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تیاری اسلام کی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے صبر، قربانی اور ایمان کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ حضرت علیؑ کی جانثاری اور رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی آج بھی اہلِ ایمان کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر مشکلات کے باوجود اللہ پر توکل کیا جائے تو کامیابی یقینی ہے۔


