اہلِ بیتؑ کی تاریخ

اسلامی تاریخ قربانی، استقامت اور صبر کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ ان مثالوں میں سب سے نمایاں شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کا واقعہ ہے۔ یہ وہ دور تھا جب نبی اکرم ﷺ اور ان کے اہلِ خانہ کو ایمان کی پاداش میں معاشرتی، معاشی اور جذباتی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہی سختیوں کے دوران اہلِ بیتؑ اور بنو ہاشم نے صبر، قربانی اور اللہ پر بھروسے کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔


پس منظر: شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کیوں پیش آئے؟

جب نبی اکرم ﷺ نے اسلام کا پیغام عام کیا تو قریش کے سرداروں کو اپنے اقتدار، بت پرستی اور تجارتی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا۔ اسلام کی تیزی سے پھیلتی ہوئی روشنی نے ان کے دلوں کو خوف زدہ کر دیا۔ اسی وجہ سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خاندان کے خلاف سخت ترین بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کی لازوال داستان لکھی گئی۔


بائیکاٹ کا آغاز اور شعب ابی طالب کا محاصرہ

قریش نے ایک تحریری معاہدہ (صحیفہ) تیار کیا جس میں درج تھا کہ:

  • بنو ہاشم سے نہ خرید و فروخت ہوگی۔

  • ان کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلقات ختم کیے جائیں گے۔

  • ان سے کوئی بات نہ کرے گا۔

یہ معاہدہ کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیا گیا اور نبی اکرم ﷺ اپنے اہلِ خانہ سمیت شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کا آغاز ہوا۔


شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر: روزمرہ کی زندگی

بھوک اور پیاس

بائیکاٹ کے باعث کھانے پینے کی اشیاء میسر نہ تھیں۔ لوگ درختوں کے پتے اور خشک گھاس کھانے پر مجبور ہو گئے۔ بچوں کی بھوک سے رونے کی آوازیں مکہ تک پہنچتی تھیں۔ یہی کیفیت شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کی سب سے نمایاں تصویر ہے۔

سماجی تنہائی

کسی کو اجازت نہ تھی کہ بنو ہاشم سے میل جول رکھے۔ حج کے دنوں میں جب کچھ سامان آتا تو قریش قیمتیں اتنی بڑھا دیتے کہ مسلمان خرید نہ سکتے۔ یہ کربناک حالات اہلِ بیتؑ کے لیے صبر کا امتحان تھے اور اسی لیے اسے شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کہا جاتا ہے۔


حضرت ابو طالبؑ کا کردار شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر میں

حضرت ابو طالبؑ نے اپنے بھتیجے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ ہر حال میں دیا۔

  • وہ ہر رات رسول اللہ ﷺ کا بستر بدلتے تاکہ دشمن کو دھوکہ ہو۔

  • اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرتے۔

  • خاندان کو حوصلہ اور ہمت دیتے۔

یوں حضرت ابو طالبؑ نے عملی طور پر ثابت کیا کہ شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کے باوجود ایمان پر قائم رہنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔


حضرت علیؑ اور شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر

اس وقت حضرت علیؑ کی عمر کم تھی لیکن وہ اپنے والد ابو طالبؑ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہر مشکل میں شریک رہے۔

  • بچپن میں بھوک اور پیاس کی تکالیف برداشت کیں۔

  • رسول اللہ ﷺ کے قریب رہ کر دین کی تربیت حاصل کی۔

  • صبر و استقامت کی تعلیمات کو عملی طور پر دیکھا۔

یہی ابتدائی تجربات حضرت علیؑ کی شخصیت میں شجاعت اور قربانی کی بنیاد بنے۔ اس طرح شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر ان کی تربیت کا لازمی حصہ ثابت ہوا۔


قرآن میں شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کا اشارہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۚ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ” (البقرہ: 214)

ترجمہ: "کیا تم نے یہ سمجھ لیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے تھے۔ ان پر سختیاں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا ڈالے گئے حتیٰ کہ رسول اور اہل ایمان پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟”

یہ آیت براہِ راست شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔


محاصرہ کا خاتمہ

تین سال بعد اللہ کے حکم سے معجزہ رونما ہوا۔ صحیفہ کو دیمک نے چاٹ لیا اور صرف "بسمک اللھم” باقی رہ گیا۔ قریش کے کچھ نرم دل افراد نے بائیکاٹ کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور یوں محاصرہ ختم ہوا۔ لیکن شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر کی یادیں اور اس کے اثرات ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گئے۔


سبق اور پیغام شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر سے

  • ایمان کے راستے پر مشکلات لازمی ہیں، لیکن صبر کے ذریعے فتح حاصل ہوتی ہے۔

  • اہلِ بیتؑ نے اپنی قربانیوں سے اسلام کو دوام بخشا۔

  • مسلمانوں کو یہ سیکھنا چاہیے کہ مشکل حالات میں اللہ پر بھروسہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔


نتیجہ

شعب ابی طالب میں سختیاں اور صبر اسلامی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے جو قربانی، صبر اور استقامت کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ، حضرت ابو طالبؑ اور حضرت علیؑ کی ثابت قدمی امتِ مسلمہ کے لیے ایک لازوال پیغام ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مشکلات کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، اللہ پر توکل کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔