بسم اللہ الرحمن الرحیم
غزوہ خندق: پس منظر اور اسباب
پانچ ہجری کا زمانہ تھا۔ مدینہ منورہ میں اسلام اپنی بنیادیں مضبوط کر رہا تھا، جسے دیکھ کر مکہ کے مشرکین اور یہود کے دلوں میں حسد و بغض کی آگ بھڑک اٹھی۔ قریش مکہ، جن کی بدر اور احد میں شکست ہوئی تھی، اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب تھے۔
فوج کی قیادت اور متحد ہونے والے قبائل
انہوں نے عرب کے تمام قبائل، جن میں بنو کنانہ، بنو سلیم، غطفان، اشجع اور یہودی قبیلہ بنو نضیر (جنہیں مدینہ سے نکالا گیا تھا) کو ایک عظیم الشان اتحاد، جسے "احزاب” کہا جاتا ہے، میں جمع کر لیا۔ اس متحدہ فوج کی قیادت ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی اور اس کا مقصد صرف اور صدار اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس لشکر کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ تھی۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس عظیم خطرے سے آگاہ کر دیا۔ یہ محض مکہ کا لشکر نہیں تھا، بلکہ پورے عرب کی مشرک قوتوں کا اجتماعی حملہ تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوری طور پر صحابہ کرام کی ایک جنگی کونسل بلائی تاکہ اس قیامت خیز خطرے کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا تاریخی مشورہ
اس موقع پر ایک فارسی صحابی، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، جو اپنی گہری نظر اور تجربے کے حامل تھے، نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم فارس (ایران) میں جب محصور ہو جاتے تھے تو شہر کے گرد خندق کھود لیتے تھے تاکہ دشمن کا گھوڑسوار براہ راست حملہ نہ کر سکے۔"
خندق کھودنا
یہ ایک ایسا منفرد اور نیا خیال تھا جس کا عربوں کو کوئی تجربہ نہیں تھا۔ عربوں کی جنگوں کا طریقہ روبرو مقابلہ، نیزہ بازی اور تیراندازی تھا۔ دفاع کے لیے خندق کھودنا ایک اجنبی حربہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے اس دانشمندانہ مشورے کو فوری طور پر قبول فرما لیا۔ یہ عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت کی ایک اور جہت کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق بات کو قبول فرما لیتے تھے، چاہے وہ کسی بھی شخص کی طرف سے ہو۔
خندق کا مقام
مدینہ کے شمالی، مشرقی اور مغربی جانب، جہاں سے دشمن کے حملے کا امکان تھا، ایک طویل اور گہری خندق کھودنے کا کام شروع ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی صحابہ کرام کے ساتھ مل کر مٹی اٹھاتے، پتھر توڑتے اور خندق کھودتے۔ مہاجرین و انصار میں اس قدر جذبہ اور یکجہتی تھی کہ وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے کام کر رہے تھے۔ خندق کی لمبائی تقریباً پانچ کلومیٹر، چوڑائی تقریباً نو میٹر اور گہرائی پانچ میٹر کے قریب تھی۔ یہ ایک عظیم الشان دفاعی تعمیر تھی جسے مسلمانوں نے انتہائی قلیل وقت میں مکمل کر لیا۔
لشکر کفار کا مدینہ پر حملہ اور خندق سے حیرت
جیسے ہی لشکر احزاب مدینہ کے قریب پہنچا، ان کی نظر اس عظیم خندق پر پڑی جو ان کے اور مدینہ کے درمیان ایک ناقابل عبور رکاوٹ بن کر کھڑی تھی۔ وہ اس حربے سے بالکل ناواقف تھے۔ ان کے لیے یہ ایک نئی اور حیران کن چیز تھی۔ عربوں میں خندق کھود کر لڑنے کا کوئی رواج نہ تھا۔ ان کے چند بہادر سوار، جن میں عمرو بن عبدود، عکرمہ بن ابی جہل، ضرار بن الخطاب، ہبیرہ بن ابی وہب اور نوفل بن عبداللہ شامل تھے، آگے بڑھے۔ وہ بنو کنانہ کے گھروں کے پاس سے گزرے اور للکارتے ہوئے کہا: "اے بنو کنانہ! تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ بہادر سوار کون ہیں؟"
لیکن جب ان کی نظر اس گہری اور وسیع خندق پر پڑی تو وہ حیران رہ گئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: "یہ تو عجمی (غیر عرب) طریقہ ہے۔ یہ ضرور اس فارسی (سلمان فارسی) کی سازش ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہے۔” مجبوراً لشکر کفار نے خندق کے اس پار اپنا محاصرہ کیا ہوا کیمپ لگا لیا۔ محاصرہ طویل ہونے لگا جو مسلمانوں کے لیے ایک شدید آزمائش کا وقت تھا۔
عمرو بن عبدود: عرب کا ناقابل شکست پہلوان
اس لشکر کفار کا سب سے خطرناک اور طاقتور جنگجو عمرو بن عبدود تھا۔ وہ قبیلہ بنی عامر بن لؤی سے تعلق رکھتا تھا اور پورے عرب میں اس کی شجاعت اور جنگی مہارت کے چرچے تھے۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ تن تنہا ایک ہزار سواروں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسے "فارس ملیل” (ملیل کا شہسوار) کا خطاب دیا گیا تھا، کیونکہ اس نے ایک بار مقام ملیل کے قریب بنو بکر کے ایک دستے کو تن تنہا شکست دی تھی۔ وہ جنگ بدر میں موجود تھا لیکن زخمی ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ جنگ احد میں شریک نہ ہو سکا۔ اب وہ مکمل طور پر تندرست ہو چکا تھا اور اپنی پوری طاقت اور غرور کے ساتھ لشکر کفار کا سب سے بڑا پہلوان بن کر آیا تھا۔
میدان جنگ میں للکار اور مولا علیؑ کی آمادگی
عمرو بن عبدود اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور خندق کا چکر لگا کر اس کا معائنہ کرنے لگا۔ اسے خندق کا ایک حصہ نسبتاً تنگ محسوس ہوا۔ اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور ایک چھلانگ میں خندق پار کر کے مسلمانوں کے محاذ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑا اور غرور سے للکارنا شروع کیا:
"هَلْ مِن مُبَارِز؟” (کیا کوئی ہے جو میرے مقابلے کے لیے آئے؟)
اس کے ڈر اور رعب کی وجہ سے کوئی بھی صحابی فوری جواب دینے کی ہمت نہ کر سکا۔ وہ ایک دیوہیکل اور تجربہ کار جنگجو تھا۔ یہ دیکھ کر مولا علیؑ اٹھے، جو اس وقت صرف 25 یا 26 سال کے نوجوان تھے۔ آپ نے اپنی زرہ پہنی ہوئی تھی اور بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میں اس کے مقابلے پر جاؤں گا۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے علی! بیٹھ جاؤ، یہ عمرو ہے۔” یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کی حفاظت اور ان کی جوانی کا خیال فرمایا۔
عمرو بن عبدود نے دوبارہ للکارا اور طنز کے انداز میں کہا: "کیا تم میں سے کوئی مرد موجود نہیں ہے؟ تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ جو تم میں سے مارا جائے گا وہ اس میں داخل ہوگا؟ آؤ، میں تمہیں جنت پہنچا دوں۔"
ایک بار پھر مولا علیؑ نے کھڑے ہو کر اجازت مانگی، اور ایک بار پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بیٹھا دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا، جو جنگ احد میں حضرت علی کے زخمی ہونے پر بہت روئی تھیں۔
تیسری بار عمرو بن عبدود نے للکارا اور فخریہ اشعار پڑھے جن کا مفہوم تھا:
"میں نے پکار پکار کر تھکنے کی حد کر دی ہے… بہادری اور شجاعت کسی جوان کے بہترین اوصاف ہیں۔"
اس کی لاف زنی سن کر مولا علیؑ پھر اٹھے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! اب تو میں ضرور جاؤں گا۔"
اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "اچھا جاؤ، یہ عمرو ہے۔"
مولا علیؑ نے فوراً جواب دیا: عَمْرٌو ہَو؟ اَنَا عَلِيُّ بنُ أَبِي طَالِب! (وہ عمرو ہے تو کیا ہوا؟ میں علی بن ابی طالب ہوں!)
یہ جواب سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت مرحمت فرما دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک ہاتھوں سے حضرت علی کو اپنی ذاتی زرہ "ذات الفضول” پہنائی، ان کے ہاتھ میں ذوالفقار تلوار تھمائی اور اپنا عمامہ مبارک "سحاب” ان کے سر پر باندھا، جس کے نو بیچ لٹک رہے تھے۔ جب مولا علیؑ میدان کی طرف چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:
اَللّٰهُمَّ! احْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ.
(اے اللہ! اس کی حفاظت فرما اس کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے، اوپر سے اور نیچے سے۔)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جس نے اس مقابلے کے ایمان اور یقین کی آزمائش کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا:
بَرَزَ الْإِيْمَانُ كُلُّهُ إِلَى الشِّرْكِ كُلِّهِ.
(آج کل ایمان کل کفر کے مقابلے میں میدان میں جا رہا ہے۔)
تاریکی مقابلہ: گفتگو اور پھر جنگ
مولا علیؑ میدان میں پہنچے تو عمرو بن عبدود نے پوچھا: "تم کون ہو؟"
حضرت علی نے فرمایا: "میں علی بن ابی طالب ہوں۔"
عمرو نے کہا: "تمہارے والد میرے دوست تھے۔ تم واپس چلے جاؤ، میں تم جیسے نوجوان کو قتل کرنا نہیں چاہتا۔"
حضرت علی نے فرمایا: "لیکن میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔"
عمرو نے اصرار کیا: "بھتیجے، میں تجھے قتل کرنا نہیں چاہتا۔ واپس چلا جا۔"
مولا علیؑ نے جواب دیا: "میرے ابن عم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا ہے کہ اگر تو مجھے قتل کر دے گا تو میں جنت میں جاؤں گا اور تو دوزخ میں جاے گا۔ اور اگر میں تجھے قتل کر دوں تو پھر بھی تو دوزخ میں جائے گا اور میں جنت میں جاؤں گا۔"
عمرو نے طنز کیا: "یہ تو بڑی عجیب تقسیم ہے!”
مولا علیؑ نے پھر اسے اسلام کی دعوت دی: "میں تجھے گواہی دینے کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں۔”
عمرو نے انکار کر دیا۔ مولا علیؑ نے اسے میدان چھوڑ کر جانے کا مشورہ دیا، لیکن عمرو نے اپنی "بہادری” کے شہرہ اور عرب کی عورتوں کے طعنوں کے ڈر سے انکار کر دیا۔
آخر میں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا: "پھر آؤ، لیکن تم اپنے گھوڑے سے اتر کر پیدل مقابلہ کرو۔” یہ ایک جنگی چال تھی، کیونکہ عمرو گھوڑسوار ہونے کی وجہ سے فائدے میں تھا۔ عمرو نے غرور میں آ کر یہ شرط مان لی۔ اس نے اپنے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں (ایک روایت کے مطابق اسے ہانک کر بھگا دیا) تاکہ وہ پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہ رہے۔
فیصلہ کن ضرب اور فتح
مقابلہ شروع ہوا۔ عمرو بن عبدود نے پہلا وار کیا۔ اس کی تلوار کی ضرب اتنی زوردار تھی کہ اس نے حضرت علی کے خود (جنگی لباس والی ٹوپی) کو کاٹ ڈالا اور سر مبارک پر معمولی سا زخم آگیا۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی باری آئی۔ آپ نے ایک ایسی بجلی کی طرح تیز ضرب لگائی کہ عمرو بن عبدود کا کندھا اور بازو جسم سے جدا ہو کر زمین پر گر گیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق ضرب اس کی ٹانگوں پر لگی تھی۔ وہ زمین پر گر پڑا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کے سینے پر سوار ہو گئے تاکہ اس کا سر قلم کریں۔ اتنے میں اس بدبخت نے حضرت علی کے چہرہ مبارک پر تھوک دیا۔ یہ ایک انتہائی ذلت آمیز حرکت تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے چھوڑ کر تھوڑی دیر ٹہلنے لگے۔
جب عمرو بن عبدود نے اس عمل کی وجہ پوچھی تو حضرت علی نے فرمایا: "تم نے میرے چہرے پر تھوک دیا۔ میں ذاتی غصے میں تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف اللہ کے لیے اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑ رہا ہوں۔ اب جبکہ میرا غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہے، میں تمہیں اللہ کے لیے قتل کروں گا۔” یہ جواب اسلامی اخلاقیات اور جہاد فی سبیل اللہ کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آگے بڑھ کر اس کا کام تمام کر دیا۔ اس ایک فتح نے پورے محاصرے کا پانسا پلٹ دیا۔ کفار کے حوصلے پست ہو گئے اور مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی۔
فتح کے بعد کے واقعات اور فضیلت کا اعتراف
حضرت علیؑ عمرو بن عبدود کا سر قلم کر کے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک اٹھا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے اٹھ کر حضرت علی کے سر کے بوسے لیے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "اے علی! آپ نے اس کی زرہ کیوں نہیں اتاری، حالانکہ یہ پورے عرب میں سب سے قیمتی زرہ تھی؟"
حضرت علیؑ نے جواب دیا: "جب وہ نیم برہنہ حالت میں تھا تو میں نے اسے لوٹنا اپنے بھائی کی عزت کے خلاف سمجھا۔ مجھے اس سے شرم آئی۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشی میں ارشاد فرمایا:
"ضَرْبَةُ عَلِيٍّ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الثَّقَلَيْنِ.”
(خندق کے دن علی کی ایک ضرب جنوں اور انسانوں کی عبادت سے بھی افضل ہے۔)
ایک اور روایت میں ہے:
"لَمُبَارَزَةُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَفْضَلُ مِنْ أَعْمَالِ أُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.”
(خندق کے دن علی بن ابی طالب کا عمرو بن عبدود سے مقابلہ قیامت تک میری امت کے تمام اعمال سے افضل ہے۔)
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے حضرت علی کی فضیلت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے قسم کھا کر کہا:
"اگر امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیک اعمال، آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک، ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں اور علی رضی اللہ عنہ کا محض خندق والا عمل دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو علی کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔"
نتیجہ اور اثرات
عمرو بن عبدود کے قتل سے لشکر کفار کے حوصلے مکمل طور پر ٹوٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور ایک آندھی اور سردی کی طوفانی رات نے ان کے کیمپوں کو تہس نہس کر دیا۔ وہ اپنے آپ کو بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ غزوہ خندق مسلمانوں کی فیصلہ کن فتح پر منتج ہوا، جس کا سہرا سب سے پہلے حضرت علیؑ کی بے مثال بہادری کے سر ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک جنگی مبارزہ تھا، بلکہ ایمان و توحید اور شرک و کفر کے درمیان ایک علامتی تصادم تھا۔ اس نے مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کیا، دشمنوں کے دل میں رعب پیدا کیا اور تاریخ میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبے کو ہمیشہ کے لیے روشن و تابناک کر دیا۔


