واقعہ مباہلہ: تاریخ، فضائل اہل بیت اور قرآن کی روشنی میں مکمل جائزہ
واقعہ مباہلہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن اور ناقابلِ تردید واقعہ ہے جو نہ صرف پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت کی سچائی پر مہر ثبت کرتا ہے بلکہ اہل بیت عصمت و طہارت کی فضیلت اور عظمت کو قرآن مجید کے الفاظ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔
یہ واقعہ مباہلہ صرف ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایمان و یقین کو مضبوط کرنے والا ایک عظیم الشان روحانی معجزہ ہے۔ اس مضمون میں ہم واقعہ مباہلہ کے پس منظر، واقعات، اور اس کے گہرے معنوی و علمی نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ ہم اس عظیم واقعہ مباہلہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ کس طرح یہ واقعہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔
نجران کا تاریخی اور جغرافیائی تعارف
واقعہ مباہلہ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے نجران کے علاقے اور اس کے لوگوں کو جاننا ضروری ہے۔ نجران موجودہ سعودی عرب کے جنوب میں یمن کی سرحد پر واقع ایک وادی کا نام ہے۔ یہ علاقہ تجارتی راستوں پر واقع ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتا تھا۔ عیسائی مذہب کے پھیلاؤ کےنجران عرب میں عیسائیت کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔
یہاں کے عیسائیوں کا تعلق بنی طور پر قبیلۂ بنی حارث بن کعب سے تھا اور وہ نسطوری عیسائی تھے۔ نجران میں ایک بڑی عیسائی آبادی تھی جس کے اپنے مذہبی رہنما تھے جن میں اسقف (بشپ) سب سے بڑا مذہبی عہدہ دار تھا۔ واقعہ مباہلہ سے پہلے نجران کے عیسائی اپنے علاقے میں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ رہ رہے تھے۔
نجران کے عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث (تین خدا کا عقیدہ) پر تھا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔ ان کا یہی عقیدہ بعد میں واقعہ مباہلہ کا مرکز بن گیا۔ نجران کی عیسائی برادری مذہبی طور پر منظم تھی اور ان کے پاس علمی و لوجسٹک وسائل موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا خط ان تک پہنچا تو انہوں نے اسے سنجیدگی سے لیا اور اس کا جواب دینے کے لیے ایک علمی وفد تیار کیا۔
پس منظر: نجران کے عیسائیوں کا رسول اللہ ﷺ کا خط
سن 10 ہجری کا واقعہ ہے، جو عامۃ الوفود کا سال بھی کہلاتا ہے۔ اس سال عرب کے مختلف قبائل کے وفود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت دینے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں خطوط بھیجے۔ انہی میں سے ایک خط نجران کے اسقف (مذہبی رہنما) ابو حارثہ بن علقمہ کے نام تھا۔ خط کا متن درج ذیل تھا:
"بسم الله ابراهيم و اسحاق ويعقوب. من محمد رسول الله إلى اسقف نجران واهل نجران. اما بعد! فاني ادعوكم الى ولاية الله من ولاية العباد، فان ابيتم فالجزية، وان ابيتم فقد آذنتم بالحرب والسلام.”
(ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے معبود کے نام سے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نجران کے اسقف اور اہل نجران کے نام۔ اگر تم اسلام قبول کر لو تو میں ابراہیم، اسحاق، یعقوب کے معبود کی حمد بجا لاؤں گا۔ اگر تمہیں یہ منظور نہ ہو تو پھر جزیہ ادا کرو اور اگر جزیہ بھی منظور نہ ہو تو تم سے جنگ کا اعلان کیا جاتا ہے۔)
اس خط میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کا ذکر اس لیے فرمایا کیونکہ عیسائی اور یہودی ان پیغمبروں کو مانتے تھے۔ اس طرح آپ ﷺ نے مشترکہ نقطہ سے بات شروع کی۔ خط کے تین واضح اختیارات تھے: اسلام قبول کرنا، یا جزیہ دے کر اسلامی ریاست کے تحفظ میں رہنا، یا پھر جنگ کے لیے تیار رہنا۔
نجران میں خط پہنچنے کا رد عمل
جب یہ خط اسقف ابو حارثہ کے پاس پہنچا تو وہ گھبرا گیا۔ اس نے فوری طور پر نجران کے دانشور اور معزز شخصیت شرحبیل بن وادعہ کو بلایا جو ایک تجربہ کار اور دوراندیش شخص تھا۔ اسقف نے خط شرحبیل کے سامنے رکھا۔ شرحبیل نے خط پڑھا تو اسقف نے ان سے مشورہ طلب کیا، "جمھاری کیا رائے ہے؟”
شرحبیل نے سوچ سمجھ کر جواب دیا، "آپ خود بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ایک نبی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ شخص وہی موعود نبی ہو۔ میں نبوت کے معاملے میں کوئی فیصلہ دینے سے قاصر ہوں، البتہ اگر کوئی دنیاوی معاملہ ہوتا تو میں آپ کو مشورہ بھی دیتا اور اس کے لیے جدوجہد بھی کرتا۔”
اسقف نے پھر نجران کے تمام بزرگان، قبائلی سرداروں، اور مذہبی رہنماؤں کو جمع کیا۔ انہیں خط سنایا گیا اور معاملہ پر غور کرنے کو کہا گیا۔ کئی دن تک بحث و مباحثہ ہوتا رہا۔ سب کی رائے تقریباً یہی تھی کہ مدینہ منورہ ایک وفد بھیجا جائے جو خود جا کر رسول اللہ ﷺ کے حالات، اخلاق، اور دعویٰ نبوت کا جائزہ لے۔ اگر وہ سچے نبی ہوئے تو ان کی بات مان لی جائے، ورنہ مناسب اقدام کیا جائے۔
چنانچہ ایک اعلیٰ وفد تیار ہوئی جس میں ستر دانشور شامل تھے۔ اس وفد میں شرحبیل بن وادعہ، عبداللہ بن شرحبیل اور جبار بن فیض جیسے معزز اور تجربہ کار افراد سرفہرست تھے۔ وفد کے ارکان کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ہر قسم کے سوالات کریں اور رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کا مکمل جائزہ لیں۔
مدینہ میں مناظرہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت پر بحث
نجران کا وفد مدینہ پہنچا اور مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ انہوں نے نہایت احترام کے ساتھ اپنا تعارف کرایا اور بات چیت شروع کی۔ ان کا انداز علمی اور مباحثہ کی غرض سے تھا۔ انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا، "اے ابوالقاسم! آپ حضرت عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ کون ہیں؟”
یہ سوال درحقیقت اسلام اور عیسائیت کے بنیادی اختلاف پر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "تم یہاں ٹھہرو، کل میں تمہیں اس کے بارے میں وہ جواب دوں گا جو میرے رب کی طرف سے آئے گا۔”
آپ ﷺ کا یہ جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تھے بلکہ وحی الٰہی کا انتظار فرماتے تھے۔ اگلے دن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ پر سورہ آل عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (آل عمران: 59)
(بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے، اسے مٹی سے بنایا پھر اس سے کہا ‘ہو جا’ تو وہ ہو گیا۔)
یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کو حضرت آدم علیہ السلام کے بغیر ماں باپ کے پیدا ہونے کی مانند قرار دے رہی تھی۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کا بغیر ماں باپ کے پیدا ہونا ان کی الوہیت کی دلیل نہیں بلکہ خدا کی قدرت کی نشانی ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی ان کی بندگی کی طرف اشارہ تھا نہ کہ الوہیت کی طرف۔ یہ ایک نہایت منطقی اور مدلل جواب تھا۔
لیکن عیسائیوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا اور بات نہ مانی۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام معجزوں کے ساتھ آئے، مردوں کو زندہ کرتے تھے، اور پیدائشی اندھوں کو بینا کرتے تھے، اس لیے وہ عام انسان نہیں ہو سکتے۔ ان کے اصرار اور تکرار پر اللہ تعالیٰ نے واقعہ مباہلہ کے لیے فیصلہ کن آیت نازل فرمائی:
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران: 61)
(پس جو شخص اس علم کے آجانے کے بعد بھی تم سے جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ آؤ ہم بلا لیں اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو، اور اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور اپنے نفسوں کو اور تم اپنے نفسوں کو، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں۔)
مباہلہ کا مطلب ہے دعا کے ذریعے اللہ سے فیصلہ مانگنا کہ وہ جھوٹے پر لعنت اور عذاب نازل فرما دے۔ یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس میں براہ راست خدا کی عدالت میں فیصلہ مانگا جا رہا تھا۔
یوم المباہلہ: تاریخ ساز دن
24 ذی الحجہ 10 ہجری کو رسول اللہ ﷺ نے عیسائی وفد سے کہا، "کل ہم مباہلہ کے لیے ملتے ہیں۔” یہ فیصلہ سن کر دونوں طرف کے لوگ انتظار میں تھے کہ دیکھیں کہ واقعہ مباہلہ میں کیا ہوتا ہے۔
صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ صرف چار افراد کو لیا۔ یہ انتخاب بذات خود ایک معجزہ تھا۔ آپ ﷺ نے:
-
- اپنے بیٹے: حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو ساتھ لیا۔ (یہ أَبْنَاءَنَا کی عملی تفسیر تھی)۔
-
- اپنی عورت: اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو ساتھ لیا۔ (یہ نِسَاءَنَا کی عملی تفسیر تھی)۔
-
- اپنا نفس: اپنے چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو ساتھ لیا۔ (یہ أَنفُسَنَا کی عملی تفسیر تھی)۔
روایات میں ہے کہ آپ ﷺ حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا آپ کے پیچھے چل رہی تھیں، اور حسنین کریمین آپ کے آگے آگے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔”
اس منظر کو دیکھنے والے صحابہ کرام حیران تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے صرف ان چار ہستیوں کو ہی کیوں منتخب فرمایا۔ اس سوال کا جواب بعد میں تاریخ نے خود دے دیا۔
عیسائیوں کی ہیبت اور شکست فاش
جب نجران کے عیسائیوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اہل بیت کے ساتھ اس یقین و اعتماد کے ساتھ آ رہے ہیں، ان کے چہروں پر نورانیت اور وقار چھایا ہوا ہے، تو وہ سہم گئے۔ ان کے چہرے فق ہو گئے۔ ان کا سردار شرحبیل بن وادعہ اپنے ساتھیوں سے بولا، "خدا کی قسم! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ شخص خدا سے مانگے کہ پہاڑ ہلا دیا جائے تو پہاڑ ہل جائے۔ اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم میں سے ایک بھی زندہ نہ بچے گا اور ساری دنیا کے عیسائی ہلاک ہو جائیں گے۔”
اس پر وفد کے دیگر ارکان نے پوچھا، "تو پھر تمہاری رائے کیا ہے؟”
شرحبیل نے کہا، "میری رائے یہ ہے کہ ہم ان سے مباہلہ نہ کریں بلکہ صلح کر لیں۔”
وفد نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ مباہلہ نہیں کریں گے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معافی مانگی۔ انہوں نے کہا، "اے ابوالقاسم! ہم آپ کے ساتھ صلح کر لیتے ہیں۔” چنانچہ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت وہ جزیہ ادا کرنے پر راضی ہو گئے۔ اس طرح واقعہ مباہلہ میں بغیر کسی بددعا کے ہی اسلام کی سچائی ظاہر ہو گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "خدا کی قسم! اگر وہ مباہلہ کرتے تو یہ میدان ان کی لاشوں سے پٹ جاتا اور تمام عیسائیوں پر آسمانی عذاب نازل ہو جاتا۔”
واقعہ مباہلہ کے بعد کے واقعات
واقعہ مباہلہ کے بعد نجران کے عیسائیوں نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن وہ جزیہ دے کر اسلامی ریاست کے تحفظ میں آ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ایک معاہدہ فرمایا جس میں انہیں مذہبی آزادی دی گئی۔ بعد میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں انہیں مدینہ سے نجران منتقل کر دیا گیا کیونکہ آپ کو خدشہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان رہنے سے ان کے عقائد مسلمانوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ واقعہ مباہلہ درحقیقت ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی سچائی کی واضح دلیل تھا، تو دوسری طرف یہ اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت کے اعلان کا دن تھا۔
واقعہ مباہلہ سے ثابت ہونے والی فضیلتیں
یہ واقعہ مباہلہ درحقیقت اہل بیت علیہم السلام کی عظمت کو ثابت کرنے والا ایک زندہ معجزہ ہے۔ اس سے متعدد فضیلتیں ثابت ہوتی ہیں:
1. حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت: نفس رسول ﷺ
آیت مباہلہ میں لفظ أَنفُسَنَا (ہمارے نفس) استعمال ہوا ہے۔ تمام اہل تفسیر اور مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس لفظ کے مصداق حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی اور مرد کو اپنے ساتھ نہیں بلایا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے نفس ہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ تمام مخلوق سے افضل ہیں، اسی طرح آپ کا نفس بھی تمام لوگوں سے افضل ہوگا۔ یہ حضرت علی علیہ السلام کی دیگر صحابہ پر فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
امام رضا علیہ السلام نے خلیفہ مامون الرشید سے فرمایا تھا، "آیت مباہلہ امیرالمؤمنین کی سب سے بڑی فضیلت ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنا نفس قرار دیا۔”
2. حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی فضیلت
لفظ نِسَاءَنَا (ہماری عورتیں) جمع ہونے کے باوجود اس کی مصداق صرف اور صرف سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی دوسری بیوی کو اس موقع پر ساتھ نہیں لیا، حالانکہ وہ موجود تھیں۔ یہ انتخاب سیدہ فاطمہ کی عظمت کی واضح دلیل ہے۔
3. امام حسن و امام حسین علیہما السلام کی فضیلت
لفظ أَبْنَاءَنَا (ہمارے بیٹے) کے مصداق امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
-
- بیٹی کی اولاد بھی حقیقی اولاد ہوتی ہے۔
-
- یہ دونوں نواسہ رسول ﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے بیٹے بھی ہیں۔
4. اہل بیت علیہم السلام کا انتخاب: معیارِ تقویٰ و افضلیت
رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچاؤں، بھائیوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر صرف ان چار ہستیوں کو منتخب کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہی وہ ہستیاں تھیں جو تقویٰ، طہارت اور قرب الٰہی میں سب سے بلند مقام رکھتی تھیں۔ آپ ﷺ کی ان سے محبت درحقیقت خدا کی طرف سے تھی۔ یہ انتخاب خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ چاروں شخصیات تمام کائنات میں خدا کے نزدیک سب سے محبوب اور افضل ہیں۔
علماء امت کی آراء
واقعہ مباہلہ پر امت کے بڑے بڑے علماء اور مفسرین نے لکھا ہے۔
-
- علامہ مجلسی اپنی شہرہ آفاق کتاب "بحار الانوار” میں لکھتے ہیں کہ لفظ ‘انفسنا’ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور اس پر تاریخی شواہد قائم ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ فضیلت ایسی ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔
-
- امام فخرالدین رازی اپنی کتاب ‘اربعین’ میں لکھتے ہیں کہ شیعہ اس آیت سے حضرت علی کی افضلیت پر استدلال کرتے ہیں اور یہ استدلال درست ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "نَفْسُ عَلِيٍّ بَعَيْنِهِ نَفْسُ مُحَمَّدٍ” (علی بلاشبہ محمد کا نفس ہیں)۔
-
- ابن حجر عسقلانی نے ‘الصواعق المحرقہ’ میں لکھا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے شوریٰ کے دن اپنے حق میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ "کیا رسول اللہ ﷺ نے کسی اور کو اپنا نفس قرار دیا تھا؟” حاضرین نے کہا، "نہیں۔”
-
- طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ ‘أبناءنا’ سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں۔
-
- زمخشری اپنی تفسیر ‘الکشاف’ میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان چار ہستیوں کی فضیلت پر واضح دلیل ہے۔
واقعہ مباہلہ کے مختلف روایتیں
واقعہ مباہلہ کے بارے میں مختلف روایتیں ملتی ہیں جن میں سے بعض میں کچھ اضافی تفصیلات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق جب نجران کا وفد آیا تو ان کے تین بااثر افراد عاقب، حارث اور اسقف میرود مدینہ کے پاس گئے اور یہودیوں کو آواز دے کر کہا: "اے بندروں اور خنزیر کی شکل میں مسخ ہونے والو! یہ شخص تمہارے درمیان موجود ہے اور تم پر غلبہ حاصل کر چکا ہے۔ تم گھر سے نکل کر ہمارے پاس آؤ۔”
چنانچہ منصور یہودی اور کعب بن اشرف یہودی ان کے پاس آئے اور کہا کہ کل صبح تم ہمارے ساتھ مسجد نبوی میں چل کر ہم ان سے کچھ سوال کریں گے۔ اگلے دن جب رسول اللہ ﷺ نماز فجر سے فارغ ہوئے تو اہل نجران آپ کے سامنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ، حضرت یوسف، اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کے بارے میں سوال کیا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے، اس پر یہی آیات نازل ہوئیں۔
یہ روایت اگرچہ بعض تفصیلات میں مختلف ہے لیکن مرکزی واقعہ مباہلہ کی تفصیلات یکساں ہیں۔
مباہلہ کی شرائط اور اس کا طریقہ کار
مباہلہ درحقیقت ایک مذہبی عمل ہے جس میں دونوں فریق خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ جھوٹے پر لعنت بھیجے۔ اس کے لیے چند شرائط ہیں:
-
- دونوں فریق کا اپنے موقف پر پختہ یقین ہونا۔
-
- اس کے لیے خاص وقت اور جگہ کا تعین۔
-
- دونوں طرف سے اپنے اپنے موقف کی صداقت کے لیے دعا کرنا۔
-
- یہ عقیدہ کہ خدا سچائی کو ظاہر کر دے گا۔
واقعہ مباہلہ میں رسول اللہ ﷺ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا اور اس کے لیے اپنے اہل بیت کو ساتھ لیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ہستیاں دین کے معاملے میں سب سے معتبر تھیں۔
واقعہ مباہلہ کا پیغام اور دور حاضر میں اس کی اہمیت
واقعہ مباہلہ ہمارے لیے بہت سے اہم پیغامات رکھتا ہے:
-
- سچائی کا اعتماد: سچے ایمان والے کو ہمیشہ اپنے موقف پر اعتماد ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلا جھجھک مباہلہ کی دعوت دی۔
-
- علمی مکالمہ: پہلے دلیل و منطق سے بات سمجھائی گئی، جب بات نہ بنی تو آخری حربہ استعمال کیا گیا۔
-
- اہل بیت کی اہمیت: اس واقعہ نے اہل بیت علیہم السلام کے مقام و مرتبہ کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔
-
- بین المذاہب ہم آہنگی: اس واقعہ میں فتح مناظرہ اور مکالمے سے حاصل ہوئی، جنگ سے نہیں۔
دور حاضر میں جب بین المذاہب تعلقات اور مکالمہ اتنا اہم ہو گیا ہے، واقعہ مباہلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم دلیل و منطق کے ساتھ بات کریں، اور اگر کوئی بات نہ مانے تو صبر و تحمل سے کام لیں۔
خلاصہ کلام
واقعہ مباہلہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قرآن مجید کی ایک زندہ آیت ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی سچائی اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی بے مثال فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
یہ واقعہ مباہلہ ہمارے لیے یہ سبق لے کر آیا کہ سچائی کے سامنے جھکنے میں ہی عقل مندی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ واقعہ امت مسلمہ کو یہ بھی بتاتا ہے کہ ہدایت اور نجات کے حقیقی راستے کو پہچاننے کے لیے اہل بیت رسول ﷺ کی پیروی ضروری ہے، کیونکہ انہیں ہی قرآن نے ‘نفس رسول’ اور ‘اولاد رسول’ کا درجہ دے کر ہمارے لیے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ واقعہ مباہلہ کی یہ روشن داستان ہمیشہ ایمان والوں کے دلوں کو نور اور یقین سے منور کرتی رہے گی۔
یہ واقعہ مباہلہ نہ صرف ماضی کا ایک واقعہ ہے بلکہ ہر دور کے مسلمان کے لیے روشنی کا مینار ہے جو اسے سچائی کے راستے پر گامزن رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس عظیم واقعہ مباہلہ سے سبق لیں اور اپنی زندگیوں میں اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور پیروی کو اپنائیں۔
(ڈس کلیمر)Disclaimer
-
مذہبی نقطہ نظر: یہ مضمون اسلامی تاریخی منابع اور تفسیری کتب پر مبنی ہے۔ مختلف مسالک کے علماء کے درمیان واقعہ مباہلہ کی تفصیلات پر اگرچہ عام اتفاق ہے، تاہم بعض جزئیات کے حوالے سے اختلافی نقطہ نظر پائے جا سکتے ہیں۔
-
تاریخی بیانات: یہاں پیش کردہ تمام واقعات اور اقوال معتبر اسلامی تاریخی مصادر سے اخذ کیے گئے ہیں۔ قاری سے گزارش ہے کہ مزید تحقیق کے لیے اصلی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔
-
علمی اختلاف: واقعہ مباہلہ میں اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت کے حوالے سے پیش کردہ نکات اسلامی علماء کی اکثریت کے متفقہ موقف پر مبنی ہیں، تاہم بعض علمی اختلافات موجود ہو سکتے ہیں۔
-
غیر جانبداری: یہ مضمون معلوماتی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں کسی بھی مسلک یا گروہ کی تنقید مقصود نہیں ہے۔
-
مذہبی رہنمائی: واقعہ مباہلہ سے متعلق کسی بھی مذہبی مسئلے میں اپنے معتمد علماء سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
-
تصاویر: مضمون میں استعمال ہونے والی تمام تصاویر نمائشی مقصد کے لیے ہیں اور اصلی واقعہ کی حقیقی عکاسی نہیں کرتیں۔
-
حقوق اشاعت: اس مضمون میں پیش کردہ مواد تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ بحوالہ دیے بغیر کسی صورت میں اسے نقل کرنا ممنوع ہے۔





