اہلِ بیتؑ کی تاریخ

امانتوں کی واپسی اور مدینہ کی طرف سفر

حضرت علیؑ کی ہجرت مدینہ اور ابتدائی پس منظر

ہجرتِ مدینہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور دباؤ کو دیکھا تو اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ لیکن ہجرت کے اس سفر میں ایک نمایاں کردار حضرت علیؑ کا ہے۔ حضرت علیؑ کی ہجرت مدینہ نہ صرف ان کی شجاعت کی دلیل ہے بلکہ ایثار اور وفاداری کی روشن مثال بھی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے مکہ چھوڑنے سے پہلے اپنی امانتیں حضرت علیؑ کے سپرد کیں تاکہ وہ انہیں ان کے اصل مالکان تک پہنچا دیں۔ یہ ذمہ داری اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ کو حضرت علیؑ پر مکمل اعتماد تھا۔ تمام امانتیں واپس کرنے کے بعد حضرت علیؑ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا۔

امانتوں کی واپسی اور ہجرت کا آغاز

رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں قریش اور دوسرے لوگوں کی امانتوں کا امین سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو نبی کریم ﷺ کی رسالت کو نہیں مانتے تھے، اپنے قیمتی سامان، زیورات اور مال آپ کے پاس امانت کے طور پر رکھتے تھے۔ جب ہجرت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ مکہ میں ٹھہریں اور سب کی امانتیں ان کے اصل مالکان تک پہنچا دیں۔

✦ امانتیں کتنی تھیں؟

تاریخ کے مطابق نبی کریم ﷺ کے پاس کئی قبیلوں اور افراد کی امانتیں تھیں۔ ان میں:

  • قریش کے سرداروں کے زیورات اور مال

  • تجارت کے قافلوں سے منسلک افراد کا سامان

  • اہلِ مکہ کی ذاتی اشیاء اور دولت شامل تھیں۔

یہ امانتیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ دشمنی کے باوجود مکہ والے رسول اللہ ﷺ کی دیانت پر کامل اعتماد رکھتے تھے۔

✦ حضرت علیؑ نے کیسے واپس کیں؟

ہجرت کی رات جب رسول اللہ ﷺ غارِ ثور کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت علیؑ ان کے بستر پر سوئے۔ اگلی صبح اور آنے والے دنوں میں آپؑ نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق ایک ایک گھر جا کر یہ امانتیں واپس کیں۔

  • حضرت علیؑ ہر شخص کے دروازے پر گئے اور کہا:
    “یہ وہ امانت ہے جو تم نے محمد ﷺ کے پاس جمع کرائی تھی۔ وہ مجھے حکم دے کر گئے ہیں کہ تمہیں واپس کر دوں۔”

  • لوگوں نے حیرت سے یہ سب دیکھا کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ دشمنی کے باوجود ان کی امانتیں ضائع یا ضبط کر سکتے تھے، لیکن اس عمل نے سب کو حیران کر دیا۔

  • اس طرح حضرت علیؑ نے تمام امانتیں مکمل دیانت داری کے ساتھ واپس کر دیں۔

سخت اور دشوار سفر

حضرت علیؑ کی ہجرت مدینہ کا سفر آسان نہیں تھا۔ آپ نے دن کے وقت چھپ کر اور رات کے اندھیروں میں سفر کیا تاکہ قریش کی نظروں سے بچ سکیں۔ تاریخ میں آتا ہے کہ سفر کے دوران حضرت علیؑ کو پاؤں میں زخم ہو گئے، لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری۔ کئی مقامات پر تھکاوٹ اور بھوک نے ستایا، مگر آپ کا مقصد صرف ایک تھا: رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچنا۔

مدینہ میں شاندار استقبال

جب حضرت علیؑ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے نہایت شفقت سے آپ کا استقبال کیا۔ آپ کے پاؤں زخموں سے چور تھے، اس پر نبی ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے مرہم رکھا اور دعائیں دیں۔ مدینہ کے مسلمان حضرت علیؑ کے ایثار اور صبر سے بے حد متاثر ہوئے۔ اس دن کو اسلامی تاریخ میں حضرت علیؑ کی عظیم قربانی اور ثابت قدمی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مؤاخاتِ مدینہ اور حضرت علیؑ

مدینہ میں ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے "مؤاخاتِ مدینہ” قائم کی، جس میں مہاجرین اور انصار کو آپس میں بھائی بنایا گیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جس نے اسلامی معاشرت میں اتحاد اور بھائی چارے کو جنم دیا۔

اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ یہ اعلان محض ایک رشتہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی روحانی حقیقت تھی جو ظاہر کرتی ہے کہ حضرت علیؑ دینِ اسلام میں کس بلند مقام پر فائز ہیں۔

حضرت علیؑ کی ہجرت مدینہ سے ملنے والے اسباق

  1. ایثار اور وفاداری  حضرت علیؑ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رسول اللہ ﷺ کے مشن کو محفوظ کیا۔
  2. صبر اور ثابت قدمی   زخموں اور تھکن کے باوجود سفر جاری رکھا۔
  3. اعتماد اور قربت   رسول اللہ ﷺ کا آپ کو بھائی قرار دینا اس اعتماد کی علامت ہے۔
  4. اسلامی معاشرت کی بنیاد   مؤاخاتِ مدینہ نے ایک نئے معاشرتی نظام کو جنم دیا۔

نتیجہ

حضرت علیؑ کی ہجرت مدینہ اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ سفر نہ صرف ایک جسمانی ہجرت تھا بلکہ وفاداری، صبر اور ایمان کی عملی تفسیر بھی تھا۔ حضرت علیؑ کی قربانیوں اور کردار نے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔

Leave a Comment