اہلِ بیتؑ کی تاریخ

حضرت علی کا بنی نضیر کے واقعہ میں کردار | ایک جرأت مندانہ کارروائی

حضرت علی علیہ السلام اور بنی نضیر کی فتح

مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کو ابتدا ہی سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا سامنا تھا۔ باہر سے قریش مکہ اور ان کے اتحادی مسلمانوں کے خلاف ہر وقت سازشوں میں مصروف رہتے، جبکہ اندرونِ مدینہ یہودی قبائل نے بظاہر معاہدے تو کر رکھے تھے لیکن دلوں میں عداوت اور حسد بھرا ہوا تھا۔ انہی میں سے ایک قبیلہ بنی نضیر تھا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ انہوں نے نہ صرف قریش مکہ جیسے دشمنوں سے خفیہ رابطے قائم کیے بلکہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان لینے کی گھناؤنی کوشش بھی کی۔ یہ صورتِ حال اسلامی ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت خطرہ تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ان کی اس بغاوت اور عہد شکنی کا جواب دینا ضروری ہے تاکہ مدینہ کو ہر طرح کی خیانت اور خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محاصرہ بنی نضیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جماعتِ صحابہ کے ساتھ بنی نضیر کے قلعوں کی جانب روانہ ہوئے۔ آپ نے بنی حطمہ کے ایک مقام پر اپنا خیمہ نصب فرمایا۔ یہ جگہ اس اعتبار سے اہم تھی کہ وہاں سے دشمن کے قلعوں کا محاصرہ آسانی سے کیا جا سکتا تھا۔ مہاجرین اور انصار کے ساتھ ساتھ حضرت علی علیہ السلام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ حضرت علی علیہ السلام ہمیشہ کی طرح نبی اکرم کے محافظ اور اسلام کے شیر دل مجاہد کے طور پر صفِ اوّل میں موجود تھے۔

قاتلانہ حملہ اور حضرت علی علیہ السلام کی جرأت

محاصرے کے دوران رات کے وقت دشمن نے ایک خفیہ سازش کی۔ بنی نضیر کے ایک معروف جنگجو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمے پر زہر آلود تیر پھینکا تاکہ آپ کی جان لی جا سکے۔ یہ کوئی عام حملہ نہیں تھا بلکہ دشمن کی جانب سے آخری اور انتہائی خطرناک کوشش تھی۔ تیر خیمے کے قریب لگا اور صحابہ میں بے چینی پھیل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً خیمہ ایک محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم فرمایا اور پہرے کو مزید سخت کر دیا۔

اسی دوران صحابہ نے محسوس کیا کہ حضرت علی علیہ السلام ان کے درمیان موجود نہیں ہیں۔ تشویش پیدا ہوئی کہ شاید وہ دشمن کے تعاقب میں گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطمینان دلایا اور فرمایا:
"علی ہمیشہ خیر اور بہادری کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، بے شک وہ کسی اہم خدمت میں مشغول ہوں گے۔ اللہ ان کی حفاظت فرما رہا ہے۔”

حقیقت میں حضرت علی علیہ السلام تاریکی میں گھات لگا کر دشمن کے اس سردار پر نظر رکھے ہوئے تھے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کیا تھا۔ ان کے دل میں غیرت اور غضب کی آگ بھڑک رہی تھی کہ یہ شخص کس قدر جرات مند ہے کہ اس نے نبی آخر الزمان کو نشانہ بنایا۔

دشمن کا مقابلہ اور فیصلہ کن وار

کچھ ہی دیر بعد دشمن کا سردار اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوا۔ وہ مطمئن تھا کہ اس کا حملہ کامیاب رہا ہے اور شاید مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اندھیرے میں اسلام کا شیر، حضرت علی علیہ السلام، اس کا انتظار کر رہا ہے۔ جیسے ہی وہ قریب آیا، حضرت علی علیہ السلام تلوار اٹھا کر بجلی کی طرح اس پر جھپٹے اور ایک ہی وار میں اسے ختم کر دیا۔ باقی دشمن یہ منظر دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے اور اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ نکلے۔

حضرت علی علیہ السلام نے اس دشمن سردار کا سر کاٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور پورا واقعہ بیان کیا۔ پھر عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو اس کے ساتھیوں کا تعاقب کیا جائے تاکہ وہ قلعے تک نہ پہنچ سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تجویز کو منظور فرمایا اور حضرت علی علیہ السلام کی قیادت میں دس صحابہ کو روانہ فرمایا۔

حضرت علی علیہ السلام کی قیادت میں پیش قدمی

حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی بجلی کی سی تیزی کے ساتھ دشمن کے تعاقب میں نکلے اور انہیں قلعے کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی جا لیا۔ ایک مختصر مگر شدید جھڑپ کے بعد تمام دشمن واصل جہنم کر دیے گئے۔ ان کے سروں کو واپس لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ایک کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ یہ دشمنوں کے لیے عبرت کا سامان بن جائے۔

بنی نضیر کی فتح اور اس کے اثرات

یہ کارروائی دراصل پورے معرکے کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ حضرت علی علیہ السلام کی بے مثال شجاعت اور موقع شناسی نے بنی نضیر کے حوصلے پست کر دیے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ مسلمان نہ صرف قلعوں کا محاصرہ کر سکتے ہیں بلکہ ان کے سب سے طاقتور جنگجوؤں کو بھی ہلاک کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتیجتاً بنی نضیر کی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ بالآخر انہیں مدینہ سے جلاوطن کر دیا گیا اور یوں اسلامی ریاست ایک بڑے خطرے سے محفوظ ہو گئی۔

نتیجہ

بنی نضیر کی فتح میں حضرت علی علیہ السلام کا کردار تاریخ اسلام کے سنہری ابواب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ ان کی شجاعت نے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کو یقینی بنایا بلکہ دشمن کی سازشوں کو بھی ناکام کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اسلام کی حفاظت ہمیشہ بہادری، وفاداری اور قربانی سے ممکن ہوئی ہے۔ جب بھی دشمن نے اسلام پر وار کیا، حضرت علی علیہ السلام تلوار اور غیرت کے ساتھ صف اوّل میں موجود رہے اور اسلام کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔

یہ تحریر خالصتاً تعلیمی اور دینی معلومات کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ اس میں درج تاریخی واقعات معتبر اسلامی کتب اور روایات سے اخذ کیے گئے ہیں۔ قاری حضرات کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی مسئلے میں حتمی رہنمائی کے لیے معتبر علمائے کرام اور مستند ماخذ سے رجوع کریں۔ اس تحریر کا مقصد کسی مسلک یا گروہ کی دل آزاری نہیں بلکہ تاریخ اسلام کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں۔

Leave a Comment