قرآن میں اہل بیت کا ذکر: آیتِ مودت اور اہل بیت کی محبت کی اہمیت
قرآن مجید ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فلاح کے لیے کئی احکامات نازل فرمائے ہیں۔ انھی احکامات میں سے ایک اہم ترین حکم قرآن میں اہل بیت کا ذکر اور ان کی محبت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے امتِ مسلمہ پر اپنے اہل بیت کی محبت کو فرض قرار دیا ہے۔
آج کی اس پوسٹ میں ہم آیت مودت کی تفسیر اور مستند احادیث کی روشنی میں یہ جانیں گے کہ اہل بیتِ اطہار کون ہیں اور ان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ کیسے ہے۔
آیتِ مودت اور اس کا ترجمہ
سورہ الشوریٰ کی آیت نمبر 23 کو "آیتِ مودت” کہا جاتا ہے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
قُلْ لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبي (الشوریٰ: 23) ترجمہ: "تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔”
آیت کی تشریح اور مفہوم
اس آیتِ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ سے فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے: "میں نے تم تک دین پہنچایا، تمہیں ہدایت کا راستہ دکھایا، اس تبلیغ اور ہدایت کے بدلے میں تم سے کوئی مال، دولت یا دنیاوی ساز و سامان نہیں مانگتا۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میرے قریبی رشتہ داروں (اہل بیت) سے محبت کرو۔”
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اہل بیت کی محبت کا حکم دینے میں حضور ﷺ کا اپنا کوئی ذاتی فائدہ نہیں تھا، بلکہ ان پاک نفوس کی محبت خود مسلمانوں کی اپنی فلاح، برکت اور ایمان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔
بارگاہِ رسالت ﷺ سے صحابہ کا سوال: اہل بیت کون ہیں؟
جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی، تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا: "یا سیدی یا رسول اللہ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، وہ کون پاک ہستیاں ہیں جن کی محبت کا خدا اور اس کے رسول نے قرآن میں حکم فرمایا ہے؟”
حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اصحابِ رسول نے یہ سوال پوچھا، تو حضور ﷺ نے واضح الفاظ میں ان کے نام لے کر ارشاد فرمایا:
يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ قَرَابَتُكَ هُؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتَهُمْ قَالَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةً وَوَلَدَاهُمَا۔ (حوالہ: زرقانی علی المواہب، جلد 7) ترجمہ: "یا رسول اللہ! وہ آپ کے قریبی کون لوگ ہیں جن کی محبت ہم پر واجب فرمائی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (حسن و حسین)۔”
مستند تفاسیر کی روشنی میں اہل بیت کا مقام
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہورِ زمانہ تفسیر "درِ منثور” میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
إِنَّهُ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ لَآيَةٌ قِيْلَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ قَرَابَتُكَ هُؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّعُهُمْ فَقَالَ عَلَى وَفَاعْمَةٌ وَابْنَاهُمَا۔ (تفسیر درِ منثور) ترجمہ: "جب یہ آیت نازل ہوئی تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے کون سے قرابت والے ہیں جن کی محبت و مودت ہم پر فرض کی گئی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے (امام حسن اور امام حسین)۔”
ان مستند حوالوں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جب بھی قرآن میں اہل بیت کا ذکر آئے گا، تو اس سے مراد سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔
خلاصہ کلام
آیت مودت کی تفسیر سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اہل بیت کی محبت کوئی عام رشتہ داری کی محبت نہیں، بلکہ یہ دین کا ایک لازمی ستون اور شرعی فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس محبت کو رسول اللہ ﷺ کی شبانہ روز محنتوں اور تبلیغِ دین کا صلہ قرار دیا ہے۔
ایک سچا مسلمان کبھی بھی حضور ﷺ کے اہل بیت سے محبت کیے بغیر کامل مومن نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیتِ اطہار کی سچی محبت، ان کا احترام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
⚠️ اہم نوٹ / اعلانِ دستبرداری (Disclaimer)
مذہبی معلومات کی حد تک دستبرداری: اس ویب سائٹ پر پیش کی گئی تمام معلومات (بشمول قرآنی آیات، تراجم، تفاسیر اور احادیثِ مبارکہ) مستند اسلامی کتب اور مروجہ تفاسیر کے حوالوں سے قارئین کی عام معلومات اور تعلیمی مقصد کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ اگرچہ مواد کی صحت اور درستی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے، لیکن کسی بھی شرعی، فقہی یا حتمی مذہبی رائے کے لیے اپنے مستند مقامی علمائے کرام یا دارالافتاء سے رجوع کریں۔
حقوقِ اشاعت (Copyright Note): اس آرٹیکل کا مقصد علم و محبتِ اہل بیتؑ کو فروغ دینا ہے۔ قارئین کو اخلاقی طور پر اجازت ہے کہ وہ دین کی تبلیغ کی نیت سے اس مواد کو شیئر کریں، تاہم تجارتی مقاصد کے لیے مواد کو بغیر اجازت کاپی یا چوری کرنے سے گریز کیا جائے۔


