مہاجرین انصار بھائی چارہ کی بنیاد اور مولا علیؑ کا کلیدی کردار
مدینہ منورہ ہجرت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سب سے بڑا چیلنج مہاجرین انصار بھائی چارہ قائم کرنا تھا۔ یہ تاریخی بھائی چارہ محض ایک رسم نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط معاشرتی بنیاد تھی۔ مہاجرین انصار بھائی چارہ کے اس پاکیزہ رشتہ نے اسلام کی تاریخ بدل دی۔
اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھائی چارہ کا تاریخی اقدام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مہاجر کو ہر انصار کا بھائی بنا دیا۔ یہ بھائی چارہ کا رشتہ دین، عقیدہ اور باہمی تعاون پر مبنی تھا۔
اس مقدس بھائی چارہ میں سب سے نمایاں رشتہ وہ تھا جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے علی، تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔” اس طرح، مہاجرین انصار بھائی چارہ کے اس عظیم عمل میں مولا علیؑ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا براہِ راست بھائی قرار دیا گیا۔
مسجد نبوی کی تعمیر: مہاجرین انصار بھائی چارہ کی پہلی عملی مثال
مسجد نبوی کی تعمیر نے اس بھائی چارہ کو عملی شکل دی۔ مسجد نبوی کی تعمیر محض ایک عمارت کا کام نہیں تھی بلکہ بھائی چارہ کی پہلی عملی مثال تھی۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران مہاجرین انصار بھائی چارہ کی حقیقی روح نظر آتی تھی۔
مسجد نبوی کی تعمیر میں مولا علیؑ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے کام میں آپؑ سب سے آگے رہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے آپؑ نے بھاری پتھر اٹھائے اور بنیادیں کھودیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے اس عظیم کام میں آپؑ کے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے، لیکن آپؑ نے کام جاری رکھا۔
مسجد نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں مولا علیؑ کی خدمات درج ذیل تھیں:
-
بے مثال جسمانی محنت: مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران مولا علیؑ نے بھاری سے بھاری پتھر اٹھائے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کا یہ کام انتہائی مشقت طلب تھا۔
-
مالی تعاون اور ایثار: مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے مولا علیؑ نے اپنی پوری استطاعت سے زیادہ حصہ ڈالا۔ مسجد نبوی کی تعمیر پر آپؑ نے اپنی کمائی کا بڑا حصہ خرچ کیا۔
-
ہنرمندی اور قیادت: مسجد نبوی کی تعمیر کے کام میں مولا علیؑ نے تعمیراتی ہنر کا مظاہرہ کیا۔ مسجد نبوی کی تعمیر کو مضبوط بنانے میں آپؑ نے اپنا فکر پیش کیا۔
-
روحانی جذبہ: مسجد نبوی کی تعمیر کے ہر پتھر کے پیچھے مولا علیؑ کا گہرا روحانی جذبہ کارفرما تھا۔ مسجد نبوی کی تعمیر کا یہ کام اللہ کی رضا کے لیے تھا۔
نتیجہ: مہاجرین انصار بھائی چارہ کی دائمی یادگار
بھائی چارہ اور مسجد نبوی کی تعمیر میں مولا علیؑ کا کردار تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ بھائی چارہ کی یہ مثال ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کا یہ عظیم کارنامہ بھائی چارہ کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
آج بھی مسجد نبوی کی تعمیر کی یہ عظیم یادگار مہاجرین انصار بھائی چارہ کی کہانی سناتی ہے۔ بھائی چارہ کا یہ پاکیزہ رشتہ اور مسجد نبوی کی تعمیر کا یہ عظیم کارنامہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایمان اور اخوت کی بنیاد پر تعمیر کی گئی معاشرہ ہی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے۔
بھائی چارہ کے اس عظیم عمل اور مسجد نبوی کی تعمیر کے اس تاریخی کارنامہ میں مولا علیؑ کا کردار ہمیشہ چمکتا ہوا ستارہ بن کر رہے گا۔ یہ بھائی چارہ کی حقیقی روح اور مسجد نبوی کی تعمیر کی اصل کہانی ہے۔
حوالہ جات کے لیے نوٹ: اس موضوع پر مزید گہرائی کے لیے معتبر تاریخی کتب جیسے "سیرت ابن ہشام”، "تاریخ طبری”، "بحار الانوار” اور "اعلام الوری بأعلام الہدی” کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔




